اصحابِ کہف کے نوجوانوں نے کس فتنہ سے بچنے کے لیے غار میں پناہ لی؟

اصحابِ کہف کا واقعہ قرآن میں ایمان والوں کے لیے ایک عظیم نصیحت ہے۔ یہ چند نوجوان ایسے معاشرے میں رہ رہے تھے جہاں بادشاہ اور قوم شرک و بت پرستی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے خالص توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنے گھروں اور معاشرے کو چھوڑا اور ایک غار میں جا کر پناہ لی، تاکہ فتنۂ کفر اور جبر سے محفوظ رہ سکیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا
جب وہ چند نوجوان غار میں جا کر ٹھہرے اور کہنے لگے اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے درست راستہ بنا دے۔
(الکہف: 10)

نوجوانوں نے شرک کے ماحول اور جابرانہ حکمران کے فتنہ سے بچنے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر توحید کو اختیار کیا۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور صدیوں تک ان کو اپنی قدرت کی نشانی بنا دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ۔۔۔ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ
سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا۔۔۔ ان میں ایک وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر 660، صحیح مسلم، حدیث نمبر 1031)

یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی حفاظت کے لیے فتنہ و گمراہی کے ماحول سے دوری اختیار کرنا ضروری ہے، چاہے اس کے لیے ہجرت اور قربانی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

تلاش کریں