اصحابُ الفیل کا واقعہ قرآن میں سورۃ الفیل میں بیان ہوا ہے۔ یمن کے حاکم ابرہہ اپنے ہاتھیوں کا بڑا لشکر لے کر مکہ آیا تاکہ خانۂ کعبہ کو ڈھا دے اور اپنی طاقت کا سکہ جما دے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی سازش کو برباد نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ بھیج دیے، جو ان پر کنکریلے پتھر برساتے تھے، پھر ان کو ایسا کر دیا جیسے کھائے ہوئے بھوسے کی طرح۔
(الفیل: 1-5)
یہ لشکر بیت اللہ کو گرانے آیا تھا لیکن اللہ نے اسے اپنی خاص قدرت سے ہلاک کر دیا۔ نہ ہاتھیوں کی طاقت کام آئی، نہ لشکر کا زور۔
اس واقعہ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے، اس کی حفاظت اللہ خود کرتا ہے۔ یہی وہ سال تھا جسے عام الفیل کہا جاتا ہے اور اسی سال رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی۔