Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آ رئیاں۔ ( روح )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم نے عذاب قبر کے بارے میں قرآن و حدیث سے جو دلائل دئیے اس میں واضح تھا کہ روح نکلتے ہی یہ انسانی جسم ہر قسم کے شعور سے عاری ہوجاتا ہے، اب اس پر کسی طرح کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور پھر رفتہ رفتہ مٹی سے بنا یہ جسم سڑ گل کر مٹی میں ملکر مٹی بن جاتا ہے۔ گویا اس جسم کا وجود ہی نہیں رہتا تو اس پر عذاب قبر کیسا ؟

ہم نے قرآن و حدیث کا متفقہ عقیدہ بیان کیا تھا کہ مرنے کے بعد سے قیامت کے دن تک جزا یا عذاب کا معاملہ اس جسم کیساتھ نہیں بلکہ روح کیساتھ ہوتا ہے۔لیکن فرقہ پرستوں نے امت میں عقیدہ پھیلایا کہ مرنے کے بعد روح پلٹ کر اس جسم میں آجاتی ہے، اسی لئے یہ جسم فرشتوں کے سوالات کے جواب دیتا ہے اور پھر اسے یہاں ہی نوازا جاتا یا عذاب دیا جاتا ہے۔ ان کی ان باتوں کو ہم قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔لہذاسب سے پہلے ہم ’’قبض روح ‘‘ کے بارے میں قرآن و حدیث کا بیان پیش کرتے ہیں:

اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا١ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠

[الزمر: 42]

”اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے انکی موت کے وقت اور جنکی موت نہیں آئی انکی سوتے وقت، پھر جس پر موت کافیصلہ ہوتا ہے اسکی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کیلئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ۝ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ۰۰۶۲

(الانعام:61/62)

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد ساب لینے والاہے‘‘۔

ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوْۤا اَيْدِيْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠

[الأنعام: 93]

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی روحوں کو آج تمھیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائیگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر نا حق کہا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔“

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ

[الأنعام: 94]

’’ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں مرتبہ پیدا کیا تھا، اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ کے پیچھے جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا ‘‘۔

یعنی روح قبض ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ مزید پڑھیں :

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۰۰۹۹لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۱۰۰

[المؤمنون: 99-100]

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے کہ اے میر ے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں۔( اﷲ تعالی فرماتا ہے) ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

ان آیا ت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کسی کی موت آتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کے ذریعے اسکی روح قبض کراتاہے اور وہ روح اللہ تعالی کی طرف لیجائی جاتی ہے۔ جو روح اس دنیا سے چلی جاتی ہے وہ اب قیامت سے پہلے واپس نہیں آسکتی کیونکہ اسکے اور دنیا کے درمیان قیامت تک کے لیے اللہ کی قائم کی ہوئی آڑ (برزخ) حائل ہوگئی ہے۔

حدیث نبوی ﷺ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَکَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکِ وَعَلَی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَی رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَکَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَکَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً کَانَتْ عَلَيْهِ عَلَی أَنْفِهِ هَکَذَا

( مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفتہ،باب عرض مقعد المیت)

’’ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت تک کے لئے لےجاؤ، آپ ؐ نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ اسے آخری وقت تک کے لئےلے جاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لئےآپ ؐ نے ایسا فرمایا)‘‘۔

قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:

” كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ” قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ

( سنن ابی داؤد، کتاب الادب،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ البَغْيِ؛ حكم الألباني: صحيح)

’’ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی ایک دوسرے کے لگے (برابر) کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک تو گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں کوشش کرنے والا تھا۔ عبادت کی جدوجہد میں لگے رہنے والا ہمیشہ دوسرے کو گناہ کرتا ہی دیکھتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ ان گناہوں سے رک جا۔ ایک روز اس نے اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے رک جا تو گناہ گار نے کہا کہ مجھے میرے رب کے ساتھ چھوڑ دے۔ کیا تو مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کریں گے یا کہا کہ اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا پھر ان دونوں کی روحیں قبض کی گئیں تو دونوں کی روحیں رب العالمین کے سامنے جمع ہوئیں تو اللہ نے عابد سے فرمایا کہ کیا تو اس چیز پر جو میرے قبضہ قدرت میں ہے قادر ہے ؟ اور گناہ گار سے فرمایا کہ جا جنت میں داخل ہو جا میری رحمت کی بدولت اور دوسرے (عابد) کے لئے فرمایا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس عابد نے ایسا کلمہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیں۔‘‘

أَنَّ أَبَاهُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ

(موطا امام مالک ، کتاب الجنائز، باب: جامع الجنائز)

’’ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح ایک اڑنے والے جسم میں جنت کے درخت سےوابستہ رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ پھر اس کو لوٹا دے گا اس کے بدن کی طرف اٹھائے جانے والے دن‘‘ ۔

قرآن و حدیث کے اس بیان سے واضح ہوا کہ وفات کے موقع پر قبض کی جانے والی روح اب قیامت سے پہلے اس دنیا و جسم میں نہیں لوٹائی جائے گی۔

فرقہ اہلحدیث کے بانی میاں نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :

’’ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کیلئے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘

( فتاوے نذیریہ حصہ اول،صفحہ ۶۷۲، فتاویٰ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی اہلحدیث)

قبر میں روح کا لوٹایا جانا ہی قبر میں زندگی کی بنیاد بنتا ہے، پھر جب ایک مرتبہ یہ عقیدہ ایمان کی بنیاد بن گیا تو اب یہ قبر والے چاہے تھوڑی دیر کیلئے زندہ سمجھے جائیں یا ہمیشہ کیلئے، دونوں صورتوں میں قرآن کا انکار اور شرک کی بنیاد ہے، اس لیے کہ کوئی بھی قبر پرجاکر ،اس کو مردہ سمجھ کر نہیں پکارتا۔ اسلام کے نام پر بنے ہوئے تقریباً تمام ہی مسالک اس ’’عود روح‘‘( مرنے کے بعد روح کا لوٹایا جانا ) کے عقیدے کے حامل ہیں ۔اس سے قبل سورہ مومنون کی آیت نمبر ۹۹۔۱۰۰ کا مکمل خلاصہ آپ کی نظر سے گذر چکا ہے کہ جو روح ﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے وہ قیامت سے قبل اس دنیا میں ہرگز واپس نہیں آسکتی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قرآن کی بات ہی حرف آخر مانی جاتی اور اسی کے مطابق ایمان بنایا جاتا لیکن ان مسلک پرستوں کا بڑا عجیب معاملہ ہے، جب چاہتے ہیں دوسرے فرقے کی بات کو قرآن کے دلائل دے کر ان پر کفر کی مہر ثبت کردیتے ہیں حالانکہ خود بھی اسی عقیدے کے حامل ہوتے ہوئے قرآن کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے فرقہ اہلحدیث کے ایک مایہ ناز مفتی، اہل سنت و الجماعت کے خلاف کتاب لکھتے ہوئے اپنے اوپر ہی قرآن کے مخالف ہونے کی گواہی ثبت فرماتے ہیں:

’’جو مر گیا وہ قیامت تک جب تک کہ حشر برپا نہ کیا جائے مردہ یامیت کہلائے گا۔

قیامت کے دن ہی مردے زندہ ہونگے جیسا کہ ارشاد ہے وَاذِاالنُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (تکویر) اور جس دن کہ روحوں کا بدن سے دوبارہ رشتہ جوڑدیا جائے گا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے روحیں بدن میں واپس لوٹ جائیں اگر ہم نے ایسا ہونا تسلیم کر لیا تو اس سے مخالفت قرآن لازم آئے گی ( عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں) اور قرآن کی مخالفت تو وہی کرسکتے ہیں جو حیات الانبیاء کا خود ساختہ عقیدہ رکھتے ہیں‘‘۔

( وفات الا نبیاء صفحہ 42،از علامہ سعید بن عزیز یوسف زئی اہلحدیث)

قارئین ! ملاحظہ فرمایا ان کا فرمانا کہ جو یہ عقیدہ رکھے کہ قیامت سے قبل اس جسم میں روح لوٹادی جاتی ہے وہ مخالف قرآن، یعنی قرآن کا انکاری ہے۔لیکن کفر کے اس فتویٰ کا نفاذ انہوں نے جماعت اہل سنت پرکیا اور اہلحدیثوں کو یہ کہہ کر بچا لیا ہے کہ ’’ عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں ‘ ‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ روح لوٹائے جانے ‘‘ کا عقیدہ رکھنا کفر ہے ،تو عذاب قبر کیلئے یہ عقیدہ کیسے عین قرآن پر ایمان کہلائے گا۔ قرآ ن میں کہیں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ روح قیامت تک نہیں لوٹائی جائے گی لیکن عذاب قبرکیلئے!

حیرت ہے ایک ہی عقیدہ ! ایک پر قرآن کے مخالف یعنی کفر کا فتویٰ اور دوسراقرآن پر ایمان کا دعویدار؟ حقیقت یہ ہے کہ جب ا ﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس بات کو بیان فرمادیا کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت سے قبل اس دنیا اس جسم میں نہیں لوٹائی جائے گی تو چاہے کوئی بار بار یا ہمیشہ کیلئے روح کے لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھے یاصرف سوال و جواب کے لیے، ہر صورت میں قرآن کا انکار ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا کہ ’’عذاب قبر کا معاملہ دوسرا ہے اور ہم بھی اس کے قائل ہیں ‘‘کس بنیاد پر ہے؟ قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ سے تو اس کی وضاحت ہو چکی ہے کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت تک اس دنیا و جسم میں واپس نہیں آئے گی لیکن احمد بن حنبل فرماتے ہیں :

’’ منکر نکیر، عذاب قبر، ملک الموت کے ارواح قبض کرنے، پھر ارواح کے قبروں کے اندر جسموں میں لوٹائے جانے پر ایمان لانا ضروری ہے، اور اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ قبر میں ایمان و توحید کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔‘‘ ( طبقات حنابلہ جز اوّل صفحہ 344)

واضح ہوا کہ ان کا یہ کہنا کہ جو قیامت سے پہلے ان جسموں میں روح لوٹانے کا عقیدہ رکھتا ہے وہ تو قرآن کا انکار ہے ، بالکل صحیح اور عین قرآن و حدیث کے مطابق ہے ،لیکن عذاب قبر اور سوال جواب کے لئے ارواح کا لوٹا دینا احمد بن حنبل کے دئیے ہوئے عقیدے کے مطابق ہے۔اسی لئے بانی فرقہ اہلحدیث میاں نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں :’’ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کیلئے آتے اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے۔‘‘

( فتاویٰ نذیریہ حصہ اول،صفحہ ۶۷۲، فتاویٰ شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی اہلحدیث)

ایک اہلحدیث مفتی فرماتے ہیں :

’’مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے اور یہی عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ اگر روح جسم میں واپس آجائے تو پھر یہ عذاب مردہ کو نہیں بلکہ زندہ کو ہواجبکہ

احادیث صحیحہ وضاحت کرتی ہیں کہ عذاب قبر میت(مردہ) کو ہوتا ہے۔ البتہ سوال و جواب کیلئے میت کی طرف روح کو کچھ دیر کیلئے لوٹایا جاتا ہے اور یہ استثنائی حالت ہے‘‘۔۔۔۔ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۷۲۔۷۳، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

وضاحت :

تمام معاملات کیلئےا ﷲ تعالیٰ نے ایک قانون و کلیہ مقرر فرمایا ہے جوسب انسانوں کیلئے یکساں ہے، لیکن کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جن کو استثنائی کہا جاتا ہے، مثلاً دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کا باپ ہوتا ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ، قرآن نے ایک طرف قانونِ عام بیان کیا تو دوسری طرف عیسیٰ علیہ السلام کے استثناء کا بھی ذکر کردیا ہے۔ قرآن کے بیان کیے ہوئے قانون و کلئیے سے ہٹ کر صرف وہی بات استثنائی مانی جاسکتی ہے جس کا ذکر قرآن و احادیث ِصحیحہ میں ہو، یہ نہیں کہ اب جو چاہے ا ﷲ تعالیٰ کی طرف سے بیان کئے گئے اس قانون کے خلاف ایک عقیدہ گھڑ لے اور پھر اس کو استثناء کا نام دے ڈالے۔ یہ لوگ براء بن عازب ؓ سے منسوب ایک ضعیف روایت کو حدیث کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روح واپس لوٹا دی جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ کی کوئی بات قرآن مجید کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرے ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ نبیﷺ تو قرآن کے بیان کردہ عقائد و احکامات کی تشریح ہی کیلئے مبعوث فرمائے گئے تھے ۔ اب جب قرآن قیامت سے قبل روح کے نہ لوٹائے جانے کا عقیدہ دیتا ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ کوئی حدیث اس کے خلاف بیان کرے ۔ لیکن اہلحدیث ایسا کرتے ہیں۔

حدیث کو بنیاد بنا کر کتاب اللہ کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرنا۔

سابقہ موضوع کو جاری رکھتے ہوئے ہم آ گے چلتے ہیں اور وہی سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ کی کوئی بات قرآن مجید کے دئیے ہوئے عقیدے کا انکار کرے ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ نبیﷺ تو قرآن کے بیان کردہ عقائد و احکامات کی تشریح ہی کیلئے مبعوث فرمائے گئے تھے ۔ اب جب قرآن قیامت سے قبل روح کے نہ لوٹائے جانے کا عقیدہ دیتا ہے تو پھرکیسے ممکن ہے کہ کوئی حدیث اس کے خلاف بیان کرے ۔

لیکن اہلحدیث ضعیف اور موضوع روایات سے اپنا عقیدہ ثابت کرنیکی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جیسا نبی ﷺنے قرآن کے دئیے ہوئے عقیدے کے برعکس مردہ مچھلی کو جائز قرار دے دیا اسی طرح قرآن کے دئیے ہوئے عقیدے کے برعکس نبی ﷺ کی حدیث سے ( نعوذوباﷲ )روح کا واپس لوٹایا جانا بھی ثابت ہے۔اپنے اس فعل کی توجیہ یہ لوگ اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’قرا ٓن کریم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ مردہ (یعنی جو حلال جانور اپنی طبعی موت مر جائے) حرام ہے۔ اور اب کسی بھی مردہ کو کھانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ حرام ہے۔لیکن حدیث میں ہے:…’’سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا ’’مردہ‘‘ (مچھلی) حلال ہے۔‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مچھلی مردہ ہے لیکن اس کا کھانا حلال ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ اگرچہ مردہ حرام ہے لیکن مچھلی مردہ ہونے کے بادجود بھی حلال ہے کیونکہ یہ ایک استثنائی صورت ہے۔‘‘ (عقیدہ عذاب قبر، صفحہ ۱۵۔۱۶، از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی)

شاید کثرت سے لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ ان مولوی حضرات کو منطق پڑھائی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب اپنی کوئی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو رہی ہو تو اس کو اس طرح الجھا کر پیش کیا جائے کہ دوسرے لوگ جن کے پاس قرآن و حدیث کا اتنا علم نہ ہو ان مولویوں کی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ یہی انداز یہاں بھی اپنایا گیا ہے۔ جو آیت انہوں نے

پیش کی ہے اس میں خشکی یعنی زمین کے جانوروں کا ذکر ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی طبعی موت مر جائے یعنی تم نے اسے شکار کرکے ذبح نہ کیا ہو تو یہ حرام ہے تم اسے نہ کھانا۔ لیکن مولوی صاحب کا کارنامہ دیکھیں خشکی کے جانوروں کے لئے بیان کردہ قانون کو پانی کی مخلوق سے ٹکرا دیا۔ پانی کے جانوروں کے لئےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ [المائدة: 96] ’’ حلال کردیا ہے تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا۔‘‘

یعنی اس آیت میں سمندر سے شکار کئے جانے والے اور اس سے حاصل ہونے والے کھانے کے رزق کے حلال ہونے کا ذکر ہے ۔ شکار تو وہ ہے جو انسان کسی نا کسی انداز میں خود پکڑتا ہے لیکن طعامہ سے کیا مراد ہے۔طعامہ سے مراد وہ رزق ہے جو سمندر خود باہر پھینک دیتا ہے یعنی مردہ۔ حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہم نے مردہ حالت میں پائی جانے والی ایک بڑی مچھلی کھائی اور اس کا گوشت نبی ﷺ کیلئے بھی لیکر آئے۔ اسی طرح اگر مچھلی کے شکار کیلئے جال یا کانٹا و غیرہ لگایا جاتا ہے تو اس سے شکار ہونے والی کافی مچھلیاں بھی مردہ حالت میں پانی سے نکالی جاتی ہیں۔ خشکی کے شکار کیلئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١ٞ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ

[المائدة: 4]

’’ کہو کہ تم پر حلال کردی گئی ہیں پاک چیزیں اور جو سدھا رکھے ہیں تم نے شکاری جانور، شکار پر دوڑانے کیلئے کہ سکھاتے ہو ان کو وہ طریقہ جو سکھایا ہے تم کو اﷲ نے۔ سو کھاؤ اس میں سے جو پکڑ کر لائیں تمہارے لیے اور اس پر اﷲ کا نام لو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔‘‘

قرآن مجید نے خشکی کے شکار پرا ﷲ کا نام لینے کا حکم فرمایا اور احادیث نبوی ﷺ سے اس کی مکمل تشریح ملتی ہے کہ یہ شکار اسی وقت حلال ہوگا کہ جب ان کوا ﷲ کا نام لے کر ذبح کیا جائے۔اس کے برعکس سمندری شکار کیلئے قرآن میں اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا گیا بلکہ اسے حلال بیان کیا ،اور حدیث سے اس کی تشریح مل گئی کہ اس کا مردار بھی حلال ہے۔

حدیث تو قرآن مجید کے احکامات کی تشریح و توضیح کرتی ہے نہ کہ اس کا انکار۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ احادیث قرآن کے احکامات کے انکار میں کوئی عقیدہ دے سکتی ہیں اور وہ استثنائی معاملہ ہے من گھڑت اور اپنے باطل عقیدے کا دفاع ہے ۔ ان کا جھوٹ سامنے آ چکا ہے قرآن اور حدیث دونوں ہی پانی کے مردار کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن اپنے باطل عقیدے ’’ روح لوٹا دی جاتی ہے ‘‘ کو ثابت کرنے کے لئے لوگوں کو دھوکہ دیا کہ حدیث قرآن کےانکار میں بھی بیان کرسکتی ہے چنانچہ قرآن روح لوٹانے کے عقیدے سے منع کرتا ہے لیکن حدیث اسے ثابت کرتی ہے۔استغفر اللہ من ذالک

ان کی تحریر کےاس جملے پر بھی غور فرمائیں ، کہتے ہیں : ’’ ۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ ‘‘ قارئین ! قرآن کا ایک ایک حرف لاریب ہے۔ اگر کہیں قرآن و حدیث میں تطبیق کرنی پڑے گی تو کیا لاریب قرآن کا دیا ہوا عقیدہ بدل دیا جائے گا ؟ نعوذبااللہ وہ قرآن جس کے ایک ایک حرف کی حفاظت کی گارنٹی دی گئی ہے اس کی بات بدل دی جائے گی !

اہلحدیث عالم نے خود اپنے فرقے کا پول کھول دیا

اہلحدیث حضرات قرآن و حدیث کے اس متفقہ عقیدے کو غلط ثابت کرنے کے لئے براء بن عازب ؓ کی روایت پیش کرتے ہیں لیکن کثرت سے محدثین نے اس بات کو واضح کیا کہ’’ اعادہ روح‘‘ کو ثابت کرنے کیلئے پیش کی جانے والی یہ روایات موضوع و من گھڑت ہیں ( اس کی مکمل تفصیل طلب کرنے پر دی جا سکتی ہے ) لیکن اہلحدیثوں کی طرف سے اس کی شدید مخالفت کی گئی اور انہیں صحیح ثابت کرنے کیلئے پورا زور لگادیا گیا۔ اس بارے میں حقیقت پر مبنی تمام تردلائل تو یہ جھٹلاتے چلے گئے مگر اپنے ہی فرقے والوں کی بات یہ کیسے جھٹلا سکیں گے، ملاحظہ فرمائیے ان کے اپنے فرقے کے مفتی صاحب کی تحریر :

’’ قبر میں روح کا جسم میں لوٹایا جانا یا اس کا تعلق جسم سے قائم کردینا صحیح احادیث سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔ ویسے بھی روح جسم میں موجود ہو پھر بھی وہ مردہ کہلائے، یہ لوگوں کی عقل کے مردہ ہونے کا ثبوت ہے اس مردہ عقل پر جس قدر ماتم کریں کم ہے۔‘‘ ( پہلا زینہ، صفحہ ۴۸، از خلیل الرحمٰن جاوید اہلحدیث)

’’…… لہذا مرنے کے بعد قیامت تک روح واپس اس جسم میں نہیں ڈالی جاتی اور نہ ہی تعلق قائم کیا جاتا ہے اور جو لوگ اعادہ روح کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ سوائے چند ضعیف یا موضوع روایا ت کے۔‘‘ ( ایضاً ، صفحہ 71)

( اہلحدیث عالم قاری خلیل الرحمن صاحب کا اس بارے میں ایک انٹرویو یو ٹیوب پر بھی موجود ہے )

اہلحدیثوں نے تو سارا زور اسی بات پر لگایا ہوا تھا کہ ہمارے فرقے کے بانی میاں نذیر سمیت سارے فرقہ والوں کا یہ عقیدہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے لیکن اب تو خودانہی کے ایک اہلحدیث علامہ نے اعتراف کرلیا ہے کہ اعادہ روح کا عقیدہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اورانہی کے ’’ شیخ الحدیث و رئیس ‘‘عبد الرحمن شاھین نے اس کتاب کا مقدمہ لکھ کران باتوں کی تصدیق بھی فرمادی۔چنانچہ اب یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہا کہ

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ۔

ان لوگوں کو چاہیے کہ ان دونوں افراد کو فوراً اپنے فرقے سے نکال دیں اس لیے کہ انہوں نے تو اس ساری قدو کاوش کا پول ہی کھول کر رکھ دیا ہے جو آج تک اہلحدیث اپنے اس باطل عقیدے کو ’’احادیث صحیحہ‘‘ سے ثابت کرنے کیلئے کرتے رہے ہیں۔

اسی قبیل کا ایک اور گروہ اعادہ روح کے بارے میں لوگوں کو اس طرح گمراہ کرتا ہے:

’’ جو خالقِ کائنات سورہ ٔحدید میں فرماتا ہے کہ لوہا آسمان سے نازل کیا گیا ہے اور پھر اسے زمین کی تہہ سے نکلوادے تو اس کیلئے کیا بعید ہے کہ کہ وہ قبر میں روح لوٹا کر مردے کو زندہ کردے۔‘‘ ( ارضی قبر یا فرضی قبر، جماعت المسلمین)

گویا اس بات کا تو انہوں نے اعتراف کر ہی لیا کہ قرآن و حدیث مرنے کے بعد قبر میں روح لوٹائے جانے کا کوئی عقیدہ فراہم نہیں کرتے اس لیے بات اب انہوں نےا ﷲ کی قدرت کی ہے۔ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہاں بات اﷲ کیلئے ’’ بعید‘‘ اور ’’قریب‘‘ کی نہیں ہورہی، بلکہ بات ہو رہی ہے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وضع کردہ اصول و قوانین کی جس کیلئے قرآن و حدیث کی محکم و واضح دلیل سے کام چلے گا منطق یا اﷲ کیلئے’’ ممکن‘‘ اور’’ نا ممکن‘‘ سے نہیں ۔ایمان تو اس چیز پر لانا ہے جو اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، یہ نہیں کہ محض اکابرین کے ا قوال پر اپنا عقیدہ بنا لیا پھر وہ کتاب اﷲ سے ثابت نہ ہوسکے تو کہہ دیا جائے کہ ان ﷲ علیٰ کل شئیٍ قدیر ۔

اگر ایمان کی یہی بنیاد ہے تو پھر قادیانیوں کو کیوں کافر کہا جاتا ہے؟کیا اﷲ تعالیٰ کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ غلام احمد کو نبی بنادے؟لیکن قادیانی کافر ہیں، اس لیے کہ ا ﷲ تعالیٰ نے فرمادیا کہ محمد ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آنے والا۔ اب جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ بھی کافر اور جو اس کو نبی مانے وہ بھی کافر ۔اس میں اﷲ تعالیٰ کیلئے ’’بعید ‘‘ اور ’’ قریب‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں۔ روح کیلئے مالکِ کائنات کا فیصلہ واضح ہے کہ موت کے بعد یہ قیامت سے قبل نہیں لوٹائی جائے گی ،اب جو یہ عقیدہ رکھے کہ روح اس قبر میں لوٹادی جاتی ہے … تووہ کو ن ہوگا؟ خود ہی فیصلہ کرلیں۔

جب کوئی اللہ کی کتاب کو ماننے کا دعوی بھی کرے اور ساتھ ہی اپنے فرقے کے بڑوں کی تحریروں پر بھی ایمان لائے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

جب کتاب اللہ پر ایمان نہ ہو تو انسان کیسے گمراہ ہوتا ہے۔

اس سے قبل ہم نے فرقہ اہلحدیث کے علماء کے کچھ احوال آپ کے سامنے پیش کئے تھے، اب ان کے ایک مفتی کا حال اور پیش کر رہے ہیں ، دیکھیں کہ جو کتاب اللہ کی دلیل سے ہٹ جائے تو پھر اسے دنیا میں کہیں سے دلیل نہیں مل سکتی ۔اب جبکہ انکا عقیدہ ہے ہی خلاف قرآن و حدیث ،اس لیے مجبوراً بار بار، موقع اور حالات کے حوالے سے اپنے عقیدے کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اہلحدیث مفتی ابو جابر عبد اﷲ دامانوی کی کل ۹۶ صفحے پر مبنی کتاب ’’ عقیدہ عذاب قبر ‘‘ ہے، اس مختصر سی کتا ب میں روح کے بارے میں کیاکیا بیان ہوا ہے ملاحظہ فرمائیے :

’’روح اور جسم کی جدائی کا نام موت ہے اور قیامت تک روح اور جسم میں جدائی رہے گی اور جب قیامت برپا ہوگی تو روح کو دوبارہ جسم میں داخل کردیا جائے گا۔۔۔‘‘ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۷۲۔۷۳، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

سورہ الزمر کی آیت نمبر ۴۲ پیش کرکے کہتے ہیں:

’’اس آیت میں جہاں بے شمار موتوں اوربے شمار زندگیوں کا تذکرہ ہے وہاں ’’ اعادہ روح‘‘ کا بھی تذکرہ موجود ہے جو ہر شخص کے بیدار ہونے پر اس کی طرف ہوتا ہے لہذا جن لوگوں کا یہ قول ہے کہ قیامت سے پہلے اعادہ روح نہیں ہوتا تو ان کا یہ قول بلا دلیل و برہان ہے۔‘‘ ( ایضاً، صفحہ ۸۳)

مزید دیکھیں :

’’مرنے کے بعد روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جبکہ جسم اپنی قبر میں عذاب یا ثواب سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے اور یہی عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ اس لئے کہ اگر روح جسم میں واپس آجائے تو پھر یہ عذاب مردہ کو نہیں بلکہ زندہ کو ہواجبکہ احادیث صحیحہ وضاحت کرتی ہیں کہ عذاب قبر میت(مردہ) کو ہوتا ہے۔ البتہ سوال و جواب کیلئے میت کی طرف روح کو کچھ دیر کیلئے لوٹایا جاتا ہے اور یہ استثنائی حالت ہے‘‘۔ ( ایضاً صفحہ ۲۵)

اب پھر موقف تبدیل ہوا، فرماتے ہیں :

’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مومن کی روح جنت میں رہتی ہے اورقیامت کے دن ہی اسے اس کے جسم کی طرف لوٹایا جائے گا‘‘۔ ( ایضاً صفحہ ۷۳)

یہ بھی دیکھیں

’’پس ثابت ہوا کہ اعادہ روح الی القبر کا عقیدہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور عذاب القبراور اعادہ روح الی القبر دو الگ الگ مسئلے نہیں بلکہ اعادہ روح کا تعلق بھی عذاب القبر ہی سے ہے ۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۷۱)

اب دوبارہ پھر سابقہ عقیدہ ، لکھتے ہیں :

’’ ان دلائل سے واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ مومن کی روح جنت میں عیش و آرام کرتی ہے، وہاں کی نعمتیں کھاتی ہے، پرندوں کی طرح اڑتی پھرتی ہے۔ اور دوسری طرف کافر و مشرک اور منافق کی روح جہنم میں رہتی ہے اور عذاب سے دوچار ہوتی رہتی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۷۴

اب دوبارہ قرآن و حدیث کا انکار ، کرتے ہیں:

’’ پھر (کافر کی روح کو) آسمان سے پھینک دیا جاتا ہے پھر وہ روح قبر میں پہنچ جاتی ہے۔‘‘ ( ایضاً صفحہ ۸۱)

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ نہ سمجھے اﷲ کرے کوئی

ملاحظہ فرمایا کہ جب انسان کا عقیدہ کتاب ا ﷲ کی بجائے کسی اور بنیاد پر ہو تو کیسی کیسی قلابازیاں کھانی پڑتی ہیں۔ پہلے کہتے ہیں کہ روح قیامت تک اس جسم میں واپس نہیں آسکتی ، پھر کہتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ قیامت سے پہلے اعادہ روح نہیں ہوتا ان کا یہ قول بلا دلیل ہے۔ یعنی خود ہی ایک بات بیان کرتے ہیں اور اپنے کہے کو غلط بھی کہتے ہیں۔ قبر میں روح لوٹائے جانے کو استثنائی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور پھر خود ہی کہتے ہیں کہ اعادہ روح اور عذاب قبر الگ الگ مسئلے نہیں بلکہ یہ ایک ہی مسئلہ ہے یعنی اب یہ استثنائی مسئلہ بھی نہیں رہا بلکہ عذاب قبر کا حصہ بن گیا۔پھر ایک طرف کہتے ہیں کہ کافر کی روح قیامت تک جہنم میں رہے گی تو دوسری طرف کہتے ہیں اس کی روح آسمان سے پھینک دی جاتی ہے اور وہ قبر میں آجاتی ہے۔

یہ سب اسی لئے کہ کتاب اللہ کے مقابلے میں اپنے سلف و امام کے اقوال پر ایمان بنا لیا۔ان عالم صاحب کی اس تحریر کو پڑھیں ، عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہتا ہے :

’’ اور پھر یہ تفریق روا رکھنا کہ دنیا میں ہر روز انسان مرے اور ہر روز اس کی روح اس کی طرف لوٹائی جائے اور اس سے کئی زندگیاں اورکئی موتیں مراد نہ ہوں۔ اورآخرت و برزخ میں اگر ایک مرتبہ اس کی طرف روح لوٹ آئے تو یہ بات قرآن کے خلاف قرار پا جائے؟‘‘ ( عقیدہ عذاب قبر، صفحہ۸۴، از ابوجابرعبد اﷲ دامانوی)

گویا اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ ہرمردہ ایک مرتبہ بولتا بھی ہے، سنتا اور چلتا پھرتا بھی توہے تواس سے قرآن و حدیث کا کوئی کفر نہ ہوگا، اس لیے کہ خود اﷲ تعالیٰ قرآن مجیدمیں اس کا تذکرہ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو سننے اور بولنے والا بنایا ہے، یہ انسان ساری زندگی سنتا اور بولتا رہا ہے، اب اگر صرف ایک بار کیلئے یہ کہہ دیا جائے کہ یہ مرنے کے بعد بھی سنتا، بولتا اور زندگی کے دوسرے امور انجام دیتا ہے تو پھر کفر کیسا؟

قارئین و سامعین ! ملاحظہ فرمایا اہلحدیث حضرات کا طرز عمل ! سورۃ الزمر کی آیت نمبر ۴۲ خود انہوں نے پیش کی ہے، اس آیت میں موت سے ہمکنار ہونے والوں کی روح کے بارے میں ا ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جس کیلئے موت کا فیصلہ کرتا ہے اس کی روح روک لیتا ہے،اور سورہ مومنون کی آیت نمبر ۹۹۔۱۰۰ میں فرمایا گیا کہ مرنے والے کی یہ روح اب قیامت سے قبل واپس نہیں لوٹ سکتی۔ لیکن جو عقیدہ زندہ انسانوں کیلئے دیا گیا اس کو وفات پا جانے والوں کیلئے دلیل بنا کر قرآن کی بات رد کر دی گئی اور بڑے فخریہ انداز میں کہا ’’تو یہ بات قرآن کے خلاف قرار پا جائے؟‘‘۔

بالکل جناب ، قرآن کے بھی خلاف ہوگا اور احادیث کے بھی۔ جب اللہ فرما دے کہ اب روح نہیں لوٹائی جائے گی تو اسی پر ایمان بنانا ہوگا ورنہ خود آپ کے دوسرے مفتی علامہ سعید بن عزیز

یوسف زئی اپنی کتاب ’’ وفات الانبیاء ‘‘ میں لکھ گئے ہیں کہ یہ قرآن کا انکار ہوگا۔ آپ اللہ کی بات تو مانتے نہیں اپنے مفتی ہی کی مان لیں۔

ان شاء اللہ گلی پوسٹ میں ہم ایک اور اہلحدیث عالم کی کہانی سنائیں گے کہ روح کی دو قسمیں ہوتی ہیں اور ایک جسم سے نکل کر دیو مالا کی کہانیوں کی طرح کائنات میں گھومتی پھرتی ہے؟

روح کے بارے میں فرقہ پرستوں کی خود ساختہ کہانیاں:

اہلحدیث مفتی عبد اللہ جابر دامانوی صاحب عرف خاکی جان کی تحریروں کا تو آپ کو سابقہ پوسٹ میں علم ہو ہی گیا ہوگا کہ روح کے بارے میں پانچ پانچ عقیدے بیان کر گئے ہیں ،اب ایک اور اہلحدیث عالم کی تحریر ملاحظہ فرمائیں کہ روح کے بارے میں کس طرح ایک اور عقیدے کو ’’جنم‘‘ دیا۔ عبد الرحمن کیلانی صاحب لکھتے ہیں:

’’روح کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک روح حیوانی جس کا تعلق گردش خون سے ہوتا ہے جب تک گردش خون برقرار ررہتی ہے یہ روح بھی موجود ہوگی۔ گردش رک جائے تو روح ختم ہوجاتی ہے یا نکل جاتی ہے۔

دوسری قسم کی روح نفسانی ہوتی ہے جسے روح انسانی بھی کہہ سکتے ہیں۔ روح کی یہ قسم وہ ہے جو دوران خواب سیر کرتی ہے۔ روح کی یہ قسم یا روح کا حصہ جب انسان کے جسم کو چھوڑ دیتا ہے تو انسان کے حواس خمسہ کی کارکردگی میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ نیند کے دوران قوت باصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان روحوں میں سے کوئی ایک مر جائے تو دوسری خو د بخود ختم ہو جاتی ہے‘‘

( روح عذاب قبر اور سماع موتیٰ،صفحہ۱۴۔۱۵، از عبد الرحمن کیلانی )

وضاحت :

روح کے بارے میں ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا۰۰۸۵

[الإسراء: 85]

’’ اور یہ تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہدو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور( اس بارے میں) تم کو بہت کم علم دیا گیا ہے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے تو دو روحوں کا کوئی علم نہیں دیابلکہ فرمایا کہ تم کو روح کے بارے میں بہت کم علم دیا گیا ہے، توروح کے بارے میں یہ اضافی علم کہاں سے القا ہوا ہے؟؟؟

من یکن الشیطٰن لہٗ قریناً فسآء قرینا ’’اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو وہ بہت برا ساتھی ہے‘‘۔

جب ان کی طرف سے بے پرکی بیان کی ہوئی باتوں پر پکڑ کی گئی تو فرماتے ہیں:

’’ یہ اوراس قبیل کے دوسرے اعتراضات میں عام غلطی جو ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بات تو کرتے ہیں روح اور عالم برزخ کی، اور اسے پرکھنا چاہتے ہیں انسانی عقل اور محسوسات سے، حالانکہ یہ بات اصولاً غلط ہے۔ کیونکہ ارشاد رباری تعالیٰ ہے کہ روح کے متعلق انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ تو پھر اس تھوڑے سے علم کی بنیاد پر ایک نظریہ قائم کرنا، پھر اس نظریہ میں عقیدہ کا رنگ بھر دینا پھر اس میں اتنا متشدد اور متعصب ہوجانا کہ جو شخص اس نظریہ کے خلاف بات کرے اسے کافر و مشرک کے القاب دے ڈالنا، آخر یہ کہاں کی دانشمندی ہے؟‘‘ ( ایضاً صفحہ ۹۹۔۱۰۰)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *