کیا نبی ﷺ کی قبر پر جا کر مانگنا جائز ہے؟
نہیں، نبی ﷺ کی قبر پر جا کر مانگنا جائز نہیں ہے۔ عبادت، دعا اور مانگنا صرف اللہ تعالیٰ کے
نہیں، نبی ﷺ کی قبر پر جا کر مانگنا جائز نہیں ہے۔ عبادت، دعا اور مانگنا صرف اللہ تعالیٰ کے
جی نہیں۔ نبی ﷺ بشر تھے، آپ ﷺ کا جسم، گوشت، ہڈیاں اور مٹی سب انسانی ہی تھے، کسی غیر
نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ امت کی ہدایت کے لیے ضروری تھا عطا فرمایا، اپنی نعمت کو
نبی ﷺ کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کے منتخب بندے اور رسول تھے، بشر تھے، اور آپ ﷺ
قبر پر جھک کر سلام کرنا قرآن و سنت کی روشنی میں کفریہ عمل ہے اور یہ شرک اور بدعت
نبی ﷺ اور اولیاء اللہ کی قبروں سے مدد لینے کا عقیدہ قرآن و سنت کی روشنی میں درست نہیں۔
قرآن نے کئی مقامات پر یہ اصول واضح کیا ہے کہ قبر کے اندر مدفون مردہ انسان سماع (سننے) کی
اللہ تعالیٰ نے حاجت روائی اور مشکل کشائی کو اپنی ذات کے ساتھ خاص کیا ہے۔ کوئی نبی، ولی یا
اللہ کی کتاب توحید کو واضح کرتی ہے اور غوث، قطب یا ابدال کا کوئی نظام قرآن سے ثابت نہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں قبروں پر سجدہ تعظیمی کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ شرک اور اللہ کی عبادت