کیا دین صرف قرآن سے سمجھا جا سکتا ہے؟
جی نہیں، دین صرف قرآن سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ قرآن کے ساتھ سنتِ رسول ﷺ
جی نہیں، دین صرف قرآن سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ قرآن کے ساتھ سنتِ رسول ﷺ
وِرد اور ذکر انسان کو اللہ تعالیٰ سے قریب کرتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ذکر قرآن و
فنا فی الرسول کا عقیدہ (یعنی اپنی ذات کو نبی ﷺ کی ذات میں فنا کر دینا اور ان کے
اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل اور واضح فرمایا ہے اور شریعت ہی انسان کی اصلاح اور روحانی ترقی کا
خواب بذاتِ خود شریعت کا ماخذ نہیں۔ عقیدہ اور عمل صرف قرآن و سنت سے ثابت ہوتے ہیں، خواب خواہ
اللہ تعالیٰ نے ذکر کی ترغیب دی ہے مگر کسی خاص “حلقہ” یا “مجلس” کی صورت میں باقاعدہ دائرہ بنا
قرآن اور مستند احادیث سے جو اذکار اور دعائیں ثابت ہیں، وہی اصل ذکر ہیں۔ ان ہی میں برکت ہے
یہ عقیدہ کہ مشائخ یا پیر اپنے مریدوں کے گناہ معاف کرا دیتے ہیں، قرآن و سنت کے بالکل خلاف
اسلام میں بیعت کا اصل حکم نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص تھا۔ صحابہ کرامؓ نے نبی ﷺ کے ہاتھ
بیعت کا تصور قرآن و سنت میں موجود ہے لیکن اس کی اصل وہی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہؓ