یہ عقیدہ کہ مشائخ یا پیر اپنے مریدوں کے گناہ معاف کرا دیتے ہیں، قرآن و سنت کے بالکل خلاف ہے۔ گناہوں کی معافی صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کسی شیخ، پیر یا ولی کے اختیار میں نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَنْ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ
اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخش سکے؟
(آل عمران 135)
نبی کریم ﷺ کو بھی اللہ نے یہی حکم دیا
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ
آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے۔
(الکہف 110)
رسول اللہ ﷺ خود گناہ معاف کرنے کے مالک نہیں تھے، بلکہ دعا کرتے اور اللہ سے شفاعت کی اجازت طلب کرتے۔
آپ ﷺ نے فرمایا
وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ
میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔
صحيح مسلم – كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار – باب استحباب الاستغفار والاستكثار منه:2702
لہٰذا مشائخ کا اپنے مریدوں کے گناہ معاف کرنے یا معاف کرا دینے کا عقیدہ شرکیہ ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ براہِ راست اللہ سے توبہ کرے، اسی سے بخشش مانگے، اور نبی ﷺ اور صحابہؓ کے طریقے پر چلے۔