:سوال
ایام مخصوص میں خواتین کا قرآن مجید پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
خواتین قرآن نہیں پڑھ سکتیں مسجد میں۔ خواتین اس، ان ایام میں قرآن نہیں پڑھ سکتیں، نہ چھو سکتی ہیں، نہ پڑھ سکتی ہیں۔ بالکل اس، اس بارے میں احادیث واضح ہیں اور اس سے ہمیں پورا اجتناب کرنا چاہیے۔ اسی لیے ہم خواتین کو حفظ وغیرہ سے منع کرتے ہیں۔ نہ ان کو عالمہ بنانا چاہیے، نہ ان کو حفظ کرانا چاہیے۔
ویسے وہ اپنے شوق سے کچھ آیات حفظ کر لیں۔ قیام اللیل میں ان آیات کی تلاوت کریں، سورتیں حفظ کر لیں چھوٹی چھوٹی جس کو بار بار پڑھتی رہیں اپنے پاکیزگی کے ایام میں تو یہ ٹھیک ہے، یہ کریں، یہی ان کا کام ہے۔ اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں ویسے برکت حاصل کرنے کی یا اللہ سے قربت کے لیے۔
اور اس کا جو کم علم خواتین ہیں، ان کو موقع ملے ان سے ملاقات کا کسی پروگرام میں، تقریب میں حصہ لینے کا تو اس میں دین کی باتیں سمجھائیں، تو یہ بہت اچھا کام ہے، ان کے عقائد کی اصلاح کریں۔ یہ کام کریں، تھوڑا سا مطالعہ کریں اور اس کے بعد اس سے فائدہ اٹھائیں، دوسروں کو اس علم کو پہنچائیں۔ نبی علیہ السلام کا فرمان کہ ایک آیت کا بھی تمہیں علم ہے، مجھ سے حاصل ہوئی ہے، اس کو بھی پہنچا دو۔ چھوٹی بات بھی مل جائے تو اس کو بھی پہنچا دو، جتنا علم ہے اس کا استعمال کریں۔
آڈیو جواب ملاحظہ ہوں