اگر کسی مومن کا باپ سود کا کام کرے اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے؟

:سوال

سوال کیا گیا ہے کہ اگر کسی کا باپ سود کا کاروبار کرتا ہے، اور ایک مومن مسلم اس کے گھر میں اکیلا ہے، تو کیا وہ علیحدہ کھانے کا انتظام کرے یا ان کے ساتھ جائز ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

دیکھیے، یہ بڑا خراب دور ہے، یہ ایمان کا کلمہ پڑھنے والی، ایمان کی دعویدار قوم بہت ہی زیادہ اللہ کی باغی اور سرکش ہو گئی ہے۔ پیسے کے لالچ اور پیسے کی محبت میں حد سے تجاوز کر رہی ہے۔ اسی طرح اس کے مال سے محبت ہو گئی ہے، مال کی دیوانی ہو گئی ہے جیسے یہودی تھے، بلکہ ان سے زیادہ۔ اور اس طرح لالچ دیا جا رہا ہے اس کو برابر کہ اس کا یہ لالچ بڑھتا جا رہا ہے، آخرت سے بے پرواہ۔

​تو ہمیں اپنے آپ کو اس آلائش سے بچانا چاہیے۔ اللہ نے ایمان کی نعمت دی ہے تو ہمیں اپنے مالک سے پوری طرح سے اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بھی مانگنی چاہیے۔ ہماری عبادات قبول ہوں، ہمارا ہر عمل اللہ کے ہاں عملِ صالح قبول ہو، تو اس کی کوشش کرنا چاہیے۔ اگر ہماری معاش میں حرام شامل ہو جائے گا، ہمارا لقمہ حرام کے اوپر ہوگا، ہمارا لباس حرام کے اوپر ہوگا، تو پھر ہماری عبادات کا قبول ہونا جو ہے یہ ممکن نہیں ہے۔ قرآن و حدیث اس کے اوپر شاہد ہے، گواہ ہے۔

​تو ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے جہاں تک بھی ہو سکے۔ اگر آپ ان کی کفالت میں ہوں، تو بھی کوشش کریں کہ کچھ اپنا چھوٹا موٹا کام کریں اور اپنا انتظام کھانے پینے کا علیحدہ کریں، بالکل۔ ان کے ساتھ نہ کریں۔ ایسا تو ہو سکتا ہے کہ آپ… بہرحال، کوشش ہونا چاہیے کہ آپ علیحدہ ہی اپنا انتظام کریں۔ اگر آپ ان کو اپنا دے دیں گے، اپنے کھانے پینے کا خرچہ، تو بھی بہرحال ان کے ساتھ ملا جلا کھانا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں تو اس سے بہت ہی بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے۔ جس سود کی، جس کی اتنی لعنت فرمائی گئی ہے اور اتنا زیادہ اس پر سختی کی گئی ہے، ہمیں اس میں بہت محتاط ہونا چاہیے، اس لیے علیحدگی اب اختیار کی جائے تو بہتر ہے۔ 

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں