کیا صرف صحابہ کرام کا ذاتی عمل، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو، ہمارے لیے قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟

:سوال

کیا صرف صحابہ کرام کا ذاتی عمل، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو، ہمارے لیے قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

صحابہ کرام کا جو بھی عمل ہے وہ یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی، کی سنت کے مطابق ہے۔ یہ تصور کیا ہی نہیں جا سکتا کہ صحابہ کرام کا کوئی عمل صحاب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہو۔ انفرادی طور سے ایک یا دو صحابی کا معاملہ دوسرا ہے۔ اس کو سنتِ صحابہ نہیں کہا جاتا، کہا جاتا، سنتِ صحابہ کے معنی ہیں صحابہ کرام کا سب کا، صحابہ کرام کا عمل۔ اور جس پہ ان کا اجماع ہے، چاہے وہ نظریاتی معاملہ ہو یا عمل کا تعلق ہو۔

​اور نہ صحابہ کرام، اگر کوئی ایک یا دو یا تین صحابی کوئی ایسا عمل کرتے یا خلیفۂ وقت کوئی ایسا کام کرتا تو دوسرے صحابہ خاموش تماش بین رہنے والے نہیں تھے جب کہ، جب کہ ان کو یہ سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ تم میں کوئی بھی ایسے منکرات کا کام دیکھے، منکر کام دیکھے تو اس کو چاہیے کہ طاقت سے روک دے۔ طاقت سے نہ روک سکے تو زبان سے اس سے روکے، منع کرے اور زبان سے بھی منع نہیں کر سکتا ہے تو دل میں برا جانے۔ تو اس لیے صحابہ کرام سے یہ توقع کرنا تو بالکل نادانی کی بات ہے۔ ایسا سوچنا ہی نہیں چاہیے۔

​صحابہ کرام رضی اللہ تعال، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، اللہ نے جن کو راضی اور خوش ہونے کا، کی سند دے دی، ان کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا، جنہوں نے ایمان کی دعوت کو پورے شعور کے ساتھ قبول کیا اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ جانی اور مالی قربانیاں، ہر قسم کی آزمائشوں کو انہوں نے خوشی کے ساتھ برداشت کیا، ہجرت کی، گھر والوں کو چھوڑا، ہر قسم کی قربانیاں انہوں نے دیں۔ اور وہ ہر مرحلے میں پورے ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہے۔ میدانِ قتال میں اترے، وہاں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی نصرت ان کو آئی۔ تو ان سے یہ توقع کرنا کہ کسی ذاتی بات، معاملے کے لیے اگر کہیں کوئی تھوڑا بہت ان میں بشری تقاضے کے تحت کوئی ہوتا بھی تھا آپس کا اخت، اختلاف یا کوئی کوتاہی یا غلطی، تو وہ فوراً اس کی نشاندہی کی جاتی تھی اور وہ توبہ استغفار کر لیتے تھے۔ ہوا ہے ایسا بعض صحابہ کا واقعہ، کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، ان کا واقعات ہیں، وہ بھی آتے ہیں، یا اور دوسرے صحابہ کرام کا۔ تو وہ فوراً انہوں نے توبہ استغفار کی، معافی کی اور یہی ایک اللہ کے بندے کا، کی یہی شان ہے۔ یہی گویا اس کی صفت ہے کہ وہ اگر کبھی غلطی ہو جائے تو توبہ استغفار کر کے اپنے معاملات درست کر لے۔ ​بہرحال، ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے انحراف کر کے کوئی عمل کیا ہو، ایسی کوئی چیز ہمارے سامنے نہیں آتی ہے۔ باقی کوئی انفرادی چیز جو ہے، جیسے جابر رضی اللہ عنہ کے آخری عمر میں ننگے سر نماز پڑھنے کا واقعہ آتا ہے، یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ آتا ہے حج کے موقع پر داڑھی تراشنے کا، تو یہ انفرادی چیز ہے اور بالکل ان کا انفرادی تفرد والا معاملہ ہے۔ تفرد جو ہوتا ہے اس کا، اس کا سنت سے تعلق کوئی نہیں ہے۔ اس کو قانون نہیں کہا جا سکتا، اس پر کوئی اصول کے لیے دلیل نہیں لی جاتی تفرد کے اوپر، یعنی انفرادی عمل کے اوپر۔ 

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں