تسبیح نماز کے بعد ہاتھوں پر پڑھی جائے یا تسبیح کے دانوں پر؟

:سوال

تسبیح نماز کے بعد ہاتھوں پر پڑھی جائے یا تسبیح کے دانوں پر؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

ہاتھوں پر پڑھنا چاہیے، یہ ہاتھوں کے پورنے [پورے] جو ہیں، یہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے بہترین شمار کرنے کے ذریعے بنا دیے ہیں۔ ان پہ شمار کیجیے آپ، یہ گواہی دیں گے آپ کے ہاتھ کی انگلیاں، یہ گواہی دیں گی۔ داہنے ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں پر شمار کیجیے، یہ گواہی دیں گی آپ کے ذکر کی، اذکار کی۔ یہی نبی علیہ السلام کی سنت ہے۔ باقی یہ تسبیح کے دانے گھمانا، یہ نمائش ہے، ریاکاری ہے، دکھاوے کا کام ہے اور یہود و نصاریٰ کا اور ہندوؤں کا، کی سنت ہے یہ۔ ہمیں نفرت ہونی چاہیے ان کے ہر کام سے، نفرت ہونی چاہیے، ان کی نقل بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ یہ مولویوں نے، صوفیوں نے… سیدھے ہاتھ پہ، جو ابو داؤد کی روایت آتی ہے، اس میں داہنے ہاتھ کا ذکر ہے۔ 

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں