:سوال
بجلی کا میٹر بند کر سکتے ہیں یا کنڈا وغیرہ لگا سکتے ہیں؟ جو لگائے اس کے گھر سے پانی، کھانا کھا سکتے ہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
جو چوری کرتا ہے قانون کی، وہ چور ہے۔ پھر اس کے بعد اس سے جو فائدہ حاصل کرتا ہے، وہ سب حرام ہے۔ پھر اس کی روزی میں، اس کے کھانے پینے میں حرام داخل ہو رہا ہے۔ اب آپ بھی اگر اپنی غذا میں حرام شامل کرنا چاہتے ہیں، تو کھائیں پیئیں اس کے گھر سے، ورنہ کوئی نہیں کھانا پینا، ہمارے مومن بھائی ایسا نہیں کرتے ہیں، ان کو نہیں کرنا چاہیے۔ چاہے وہ پسینے میں رہیں، ہاتھ کا پنکھا جھلیں۔ ہماری زندگی کا کافی حصہ اس طرح گزرا کہ بجلی تھی ہی نہیں، ہاتھ کا پنکھا جھلتے تھے۔ اور اسی میں، چراغ کی روشنی میں، لالٹین سے پڑھتے تھے، امتحان پاس کیے ہم نے، اسکول کے امتحان پاس کیے اس طرح سے۔
تو یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں ہے، مگر حرام کے اندر ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ چوری کرنا، قانون کی چوری—چاہے قانون کتنا ہی ظالمانہ کیوں نہ ہو، مگر چوری نہیں کریں گے اس کی۔ انکم ٹیکس بچانے کے لیے، کنڈا لگا کر، کسی طرح سے بھی چوری نہیں کریں گے قانون کی۔ اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ ایمان والا بہت عالی مرتبہ ہوتا ہے وہ، اس کا ظرف بہت عالی ہوتا ہے، وہ تکلیف برداشت کرتا ہے، وہ قربانیاں دیتا ہے، لیکن اپنے رب کی ناراضگی نہیں کرتا۔ جو انسانوں کی اس دنیا میں چوری کرتا ہے، وہ اللہ کے دین کی بھی چوری کرتا ہے۔
ایمان والوں کے لیے یہ چیز زیب نہیں دیتی ہے، ان کو بالکل اس چیز سے، ذرا سا بھی حرام اپنے اس کے اندر شامل نہیں کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔ اللہ نے آپ کو ایمان دیا ہے، یہ بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدر کیجیے۔ رب ہمارا بہت عظیم ہے اور ہماری قربانیوں کی بہت ہمیں، ہمیں انعام دے گا، بہت انعام دے گا۔ ہمیں اس کے انعام کا آرزومند ہونا چاہیے، اس کی جنتوں کا آرزومند ہونا چاہیے، اس کے لیے ہمیں قربانیاں دینی چاہئیں، ہم کونسی قربانی دے رہے ہیں؟ بتائیے، یہ کوئی معمولی چیز ہے یہ تو۔ صحابہ کرام نے کتنی قربانیاں دی تھیں، آپ کے سامنے بیان کی جاتی ہیں۔ تو ہمارے لیے ایسی آزمائشیں کہاں آئی ہیں، ایسی قربانیوں سے ہم کب دوچار ہوئے ہیں۔