:سوال
ایک ساتھی جن کے گھر والے مرتد ہو چکے ہیں، ان کے والد بھی ہمارے ساتھی ہیں، مگر وہ اپنی مرتد فیملی سے ملتے رہتے ہیں اور کھانا بھی ان کے گھر سے کھاتے ہیں جبکہ بیٹے کو یہ سب کچھ معلوم ہے، مگر وہ اپنے والد کو سمجھاتا نہیں ہے، ایسے حالات میں بیٹے کو کیا کرنا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
مرتدوں سے علیحدگی اختیار کرنا ہے، بالکل۔ چاہے وہ اپنے قریب کی مسجد میں جا کر رہے، وہ علیحدگی اختیار کرے، نہ وہاں کھائے پیے اور نہ کچھ کرے، خود اپنے کمائے، اپنی کمائی کرے اور اپنی بندوبست کرے اپنی معاش کا۔ مرتدوں کے ساتھ اس کو نہیں رہنا چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرتد کے لیے سزا رکھی ہے کہ اس کی گردن مار دی جائے۔ یہ سزا ہے اس کی۔ تو یہی حدیث میں بیان کیا گیا ہے اور جب اسلامی ریاست ہوگی تو یہی سزا دی جائے گی مرتدین کو۔ تو اب اس وقت ان سے ایسی نفرت ہونی چاہیے جیسے کہ قابلِ قتل لوگوں سے نفرت ہوتی ہے، قابلِ حد لوگوں سے۔