:سوال
ہمارے بعض ساتھی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر رشتے اور، اور محبت مشرکوں کے ساتھ کرتے ہیں، ایسے ساتھیوں سے مسجدوں کا چندہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ایسے ساتھی جو برابر اگر ایسا کرتے ہیں تو ان کو، ان کا بالکل یہ ہونا چاہیے کہ وہ گویا اگر اپنے، اپنی بچیوں کو مشرکوں میں دے رہے ہیں تو وہ کفر کر رہے ہیں، کفر کر رہے ہیں، یہ کفر ہے۔ اور ایسے ساتھی اگر توبہ استغفار کر کے اپنے داماد کو مومن نہیں بناتے ہیں، یا ایک رشتہ دینے کے بعد دوسرا رشتہ نہیں دیتے ہیں، اگر دوسرا بھی رشتہ دیتے ہیں تو پھر اس کے بعد ان سے اعانت وغیرہ لینا بند کر دینا چاہیے اور اس حالت میں مر جائیں اور اگر وہ یہ کہیں کہ ہم صحیح ہیں، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کیا، غلط کام نہیں کیا، اس کی اجازت ہے، تو پھر وہ کفر کرتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرنے والے کے ہم صلوٰۃ المیت (نمازِ جنازہ) ادا نہیں کرتے۔