:سوال
مشرک کو رشتہ دینا یا رشتہ لینا کیسا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
مشرک کو بیٹی دینا تو بالکل کفریہ بات ہے یہ، اللہ کی کتاب کا انکار، مشرک کو بیٹی اپنی دے ہی نہیں سکتے ہیں بالکل۔ چاہے وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو، مشرک کو اپنی بیٹی نہیں دی جا سکتی ہے۔
اور اسی طرح بیٹی لینا، مومنوں میں رشتہ کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ ہماری پھر مومنہ بیٹیاں جو ہیں وہ تو مشرکوں میں نہیں جاتیں۔ تو اگر اپنے ہم لڑکوں کی شادیاں مشرکوں میں کرتے رہیں گے تو مومن بیٹیاں ہماری کہاں جائیں گی؟ اس لیے ان کا بھی خیال کرنا چاہیے، اپنے مومن… مومن بھائیوں کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے ہوئے ان کے لیے خیال ہونا چاہیے اور انھیں میں رشتہ کرنا چاہیے۔ زیادہ اچھا تو یہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات پر زور دیا ہے کہ ایمان دیکھنا چاہیے۔
اور جب ہم ایمان داروں میں رشتہ کرتے ہیں تو اس سے اپنے بیٹے کی زندگی بھی اچھی طرح گزرتی ہے، مومنوں میں ہوتا ہے، مومنہ بچی ہوتی ہے، اس سے اولاد بھی مومن ہوتی ہے، اور ان کی تربیت اور ان کی پرورش آسان ہو جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ مومنوں کی اولاد قناعت والی ہوگی، وہ زیادہ مطالبہ بھی نہیں کرے گی، زیادہ پیچیدگیاں بھی پیدا نہیں ہوں گی۔ مشرک کی اگر ہم بیٹی لائیں گے تو وہ بار بار رسومات میں اور ہر کام میں اپنے گھر جانے کے لیے کوشش کرے گی اور اس طرح ایک کشمکش ہوگی شوہر اور بیوی میں اور اس سے بچوں کی تربیت پہ بھی برا اثر پڑے گا۔ تو اس لیے یہی کوشش ہونی چاہیے کہ ہم مومنہ بیٹی لیں اور مومن ہی کو اپنا رشتہ دیں۔
قرآن میں تو اس طرح کہا گیا ہے کہ کبھی ایک اپنی بیٹی مشرک کو نہ دو، وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ، (البقرہ:221) مومن ایک غلام جو ہے وہ ایک مشرک سے بہتر ہے چاہے وہ غلام تمہیں کتنا ہی اچھا لگے۔ اسی طرح مومنہ بیٹی کے رشتے کے لیے کہا کہ مومنہ ہی سے رشتہ کرو۔ اور ایک باندی غلام… باندی، غلام جو ہوتی ہے خاتون، ملکِ یمین، وہ ایک مشرکہ سے بہتر ہے چاہے وہ تمہیں مشرکہ کتنی اچھی کیوں نہ لگے۔ تو قرآن نے بھی اس بات پہ زور دیا ہے، اسی لیے ہمیں قرآن اللہ کی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننا چاہیے۔