​کمانے کی غرض سے بیرونِ ملک جانا کیسا ہے؟

:سوال

کمانے کی غرض سے بیرونِ ملک جانا کیسا ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

بہتر تو یہی ہے کہ انسان اپنے ملک میں رہے، اپنے بچوں کی پرورش کرے، جو کچھ اللہ تعالیٰ یہاں دیتا ہے یہاں محنت کرے،جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھا ہے، جیسے ابھی آپ کو سورہ دخان میں بتایا گیا ہے، اسی طرح سورہ قدر میں، سب فیصلے ہو جاتے ہیں، اللہ کے ہاں سب لکھا ہوا ہے۔

​انسان محنت کرے گا، جائز طریقے سے محنت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو حلال رزق دے گا، اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے پرورش کرے۔ دو وقت بھی ملے کھانے کو، تو بھی خوشی کے ساتھ شکر اللہ کا ادا کرے اور پرورش کرے، اچھی تربیت کرے بچوں کی۔ بیرونِ ملک جاتے ہیں زیادہ مال کمانے کے لیے اور اس کے بعد اپنے بیوی بچوں سے دور ہو جاتے ہیں، یا یہ کہ وہاں کے ماحول میں رنگ جاتے ہیں، یہ کچھ زیادہ اچھا معاملہ نہیں ہے، پسندیدہ معاملہ نہیں ہے۔ ہونا یہی چاہیے کہ اللہ پہ توکل ہو، قناعت کرے اللہ تعالیٰ جتنا دے اسی پہ قناعت کرے۔

​ہاں، دین کی خدمت کرے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ اگر توفیق دے، اس کو جانا پڑے، پہلے اپنے ملک کے اندر خدمت کرے دین کی۔ یہاں لوگوں کو، اپنی قوم کے لوگوں کو ایمان کی دعوت… دعوت دے، ام القریٰ کے اندر، اس بستی کے اندر، اور اس کے بعد پھر اگر ضرورت پڑے تو سفر بھی کرے اللہ کے دین کو پہنچانے کے لیے، تو یہ جو ہے ایک اچھی آخرت کے لیے بہتر ہے۔

آڈیو جواب ملاحظہ ہوں

تلاش کریں