اللہ تعالیٰ نے دین کے اصول اور ہدایت کا ماخذ صرف اپنی کتاب اور اپنے رسول ﷺ کی سنت کو قرار دیا ہے۔ جو شخص یا جماعت قرآن و سنت سے ہٹ کر اپنے اصول، نظریات یا طریقے بناتی ہے، وہ دراصل دین میں اضافہ اور بدعت کی راہ پر ہے، جسے قرآن نے باطل قرار دیا ہے۔
ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ
پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے پر قائم کیا، سو آپ اسی کی پیروی کیجیے اور اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیے جو علم نہیں رکھتے۔
(الجاثیہ: 18)
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ شریعت صرف وہی معتبر ہے جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے عطا فرمائی، اس کے سوا ہر راہ خواہ علماء یا مشائخ کی طرف منسوب ہو، وہ گمراہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام نکالا جو اس (دین) کا حصہ نہیں، وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2697)
دین میں خود ساختہ اصول، بدعات اور نظریات اللہ کے نزدیک مردود ہیں۔ لہذا قرآن و سنت سے ہٹ کر بنائے گئے تمام اصول، مسالک یا مذہبی نظام باطل ہیں، کیونکہ دین مکمل ہو چکا ہے اور صرف وہی معتبر ہے جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے ثابت ہے۔