کیا حق کے مقابلے میں کسی جماعت کا ساتھ دینا ایمان کو ختم کردیتا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوں، خواہ اس کے خلاف اُن کی اپنی قوم، دوست یا عزیز کیوں نہ ہوں۔ حق کے مقابلے میں کسی جماعت یا گروہ کی حمایت دراصل اللہ اور اُس کے دین سے بغاوت کے مترادف ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ
اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔
(النساء: 135)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حق کے معاملے میں رشتہ، قوم، یا جماعت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو (یہی اس کی مدد ہے)۔
(صحيح البخاري:کتاب المظالم والغصب:حدیث: 2444)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اگر گروہ یا اپنا بھائی ظلم یا باطل پر ہو تو اس کا ساتھ دینا ایمان نہیں بلکہ خیانت ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان حق کے ساتھ کھڑا ہو، چاہے وہ تنہا رہ جائے۔ حق کے مقابلے میں کسی بھی جماعت، مسلک یا رہنما کی اندھی حمایت ایمان کو مجروح کرتی ہے، اور اگر وہ حمایت اللہ کے حکم کے انکار تک پہنچ جائے تو ایمان ختم کر دیتی ہے۔ ایمان کی حفاظت صرف اسی میں ہے کہ بندہ اللہ اور رسول کے حق کو ہر تعلق اور ہر جماعت پر مقدم رکھے۔

تلاش کریں