دنیاوی مفاد کے لیے دین میں تبدیلی کرنا کیسا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے دین کو حق اور مکمل نظامِ زندگی کے طور پر نازل فرمایا ہے، اور اس میں کسی قسم کی تحریف یا مفاد پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو شخص دنیاوی فائدہ یا سیاسی و معاشی منفعت کے لیے اللہ کے احکام کو بدلنے یا ان کی تاویل کرنے لگے، وہ اللہ کے غضب کا مستحق بنتا ہے۔

فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ

تو ان لوگوں کے لیے تباہی ہے جو اپنی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے بدلے تھوڑا سا مول کما لیں۔ ان کے لیے ہلاکت ہے اس چیز سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکت ہے اس کمائی سے جو وہ کرتے ہیں۔
(البقرۃ: 79)

یہ آیت اُن لوگوں کی مذمت کرتی ہے جنہوں نے دین کے حکموں کو دنیاوی منفعت کے لیے بدل دیا۔ جو لوگ دین میں تبدیلی کر کے دنیا کمانا چاہتے ہیں وہ دراصل اللہ کے دین کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے، کیونکہ توحید کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کو کسی بھی مفاد سے بلند سمجھے۔ لہذا دین میں دنیاوی مصلحت کے لیے تبدیلی کرنا دراصل اللہ کی حاکمیت سے بغاوت ہے، جو ایمان کے منافی اور شرک کی سرحدوں میں داخل کر دیتی ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ دین کو خالص رکھے، خواہ اس کے بدلے دنیا کا کوئی نقصان کیوں نہ ہو۔

تلاش کریں