کیا اللہ کے احکام پر اپنی رائے مقدم رکھنا کفر ہے؟

جی ہاں، اللہ کے احکام پر اپنی رائے یا خواہش کو مقدم رکھنا صریح کفر اور گمراہی ہے، کیونکہ یہ اللہ کی حاکمیت اور دین کی بنیاد کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ
اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
(محمد:33)

فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
پس تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے اختلافات میں آپ ﷺ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ کریں اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری طرح سرِ تسلیم خم کر دیں۔
(سورۃ النساء: 65)

ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس، عقل، رائے یا خواہش کو رسول ﷺ کے فیصلے پر مقدم نہ کرے، کیونکہ نبی ﷺ کا فیصلہ دراصل اللہ کا حکم ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کے مقابلے میں اپنی عقل یا رائے کو ترجیح دیتا ہے، وہ دراصل اللہ کی حاکمیت کا منکر ہے، اور یہی کفر کی بنیاد ہے۔ مومن کا ایمان یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ حکمِ الٰہی کے سامنے مکمل تسلیم و رضا اختیار کرے۔

تلاش کریں