یقیناً عبادت میں نیت کا غیراللہ کی طرف جھکاؤ شرک کے زُمرے میں آتا ہے، کیونکہ عبادت کی روح اخلاص ہے، اور اخلاص تب ہی مکمل ہوتا ہے جب بندہ صرف اللہ کی رضا کے لیے عمل کرے۔ اگر نیت میں کسی مخلوق کی خوشنودی، تعریف، یا دنیاوی مقصد شامل ہو جائے تو وہ غیر اللہ کی عبادت اختیار کر لیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
اور انہیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ دین کو خالص کر کے صرف اللہ کی عبادت کریں۔
(سورۃ البینہ: 5)
یہ آیت اعلان ہے کہ عبادت کا قبول ہونا اخلاص پر موقوف ہے، اور نیت میں غیراللہ کی آمیزش شرک کے دروازے کو کھولتی ہے۔ اگر بندہ صلاۃ، صدقہ، علم یا تبلیغ اس نیت سے کرے کہ لوگ تعریف کریں یا اسے نیک سمجھیں، تو وہ عبادت شرک سے آلودہ ہو جاتی ہے۔
لہٰذا توحیدِ عبادت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ نیت کا ہر رُخ، ہر امید اور ہر مقصد صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو
جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
(صحیح بخاری: 1)
یعنی عبادت میں نیت اگر خالص نہیں تو بندگی کا دعویٰ بھی خالص نہیں۔