اگر سب مسلمان لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر متفق ہیں تو تقسیم کیوں باقی ہے؟

اصل میں لا إله إلا الله محمد رسول الله پر زبانی اتفاق کافی نہیں، جب تک اس کے معنی، تقاضے اور عملی اطاعت میں بھی اتفاق نہ ہو۔ اور اکثریت کلمے میں الہٰ کا معنی بھی نہیں جانتے یعنی الہٰ کے صفات مخلوق میں تقسیم کرتے ہیں۔ اسی طرح اختلاف پھیل جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ
اور اہلِ کتاب نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا، محض آپس کی ضد اور حسد کی وجہ سے۔
(آلِ عمران: 19)

اسی طرح امت میں بھی زیادہ تر اختلاف نفس پرستی، تقلیدِ شخصیات، اور دنیاوی تعصبات کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اصل کلمہ یا وحی پر۔ اگر سب لا إله إلا الله کو صرف اللہ کی عبادت اور حکم ماننے میں یکساں طور پر سمجھیں، اور محمد رسول الله کو صرف اطاعتِ رسول ﷺ تک محدود نہ کریں بلکہ اپنے ہر قول و عمل کو ان کی سنت کے تابع کر دیں، تو تقسیم ختم ہو جائے۔

صحابہ کرامؓ کے دور میں یہی اتفاق عملی تھا، اس لیے وہ ایک اُمّت تھے۔ جب کلمہ کے معنی میں تاویل، بدعات، اور ذاتی آراء شامل ہو گئیں تو امت کا اتحاد بکھر گیا۔ یوں معلوم ہوا کہ اتفاقِ زبان نہیں بلکہ اتفاقِ اطاعت ہی حقیقی وحدت ہے۔

تلاش کریں