مسالک میں اجتہادی مسائل کے حل کے لیے امت کو کس اصول کی طرف رجوع کرنا چاہیے؟

اجتہادی اور فقہی اختلافات میں امت کو ہمیشہ قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے، نہ کہ کسی مسلک یا جماعت کے تعصب کی طرف۔ اسلام نے اختلاف کے وقت فیصلہ کن معیار صرف وحی کو بنایا ہے، نہ کہ انسانی رائے کو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
پھر اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی بہتر اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے۔
(النساء: 59)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اجتہادی اختلاف کا واحد حل اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت کی طرف رجوع ہے۔

تلاش کریں