یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًۭٔا میں انسان کے کس زعم کی نفی کی گئی ہے؟

اللہ نے فرمایا کہ
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًۭٔا وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلّٰهِ
جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کچھ اختیار نہ رکھے گی، اور اس دن سارا اختیار اللہ ہی کا ہوگا۔
(الانفطار: 19)

اس میں انسان کے اختیار، اثر، اور خودمختاری کے زعم کی نفی کی گئی ہے۔ کہ دنیا میں انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے نفع و نقصان، عزت و ذلت، یا انجام پر قدرت رکھتا ہے، کوئی اپنے مال پر ناز کرتا ہے، کوئی اپنے اثر و رسوخ پر، کوئی اپنے اولاد و دوستوں پر۔ مگر یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ قیامت کے دن یہ سب رشتے، طاقتیں، اور سہارے بے کار ہو جائیں گے۔ نہ بادشاہ بادشاہ کو بچا سکے گا، نہ باپ بیٹے کے کچھ کام آئے گا، نہ کوئی سفارش یا تعلق بغیر اذنِ الٰہی کے نفع دے گا۔

یہ آیت انسان کو اس غرور سے پاک کرتی ہے کہ وہ کسی کا مالک یا نجات دہندہ بن سکتا ہے۔ اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہی اور حکم باقی ہوگا۔
پس جو آج اپنے فیصلے، اپنی نجات، اور اپنی امیدیں صرف اللہ سے وابستہ رکھے گا، وہی وہاں امن میں ہوگا۔

تلاش کریں