قیامت کے دن سب سے بھاری عمل کون سا بتایا گیا ہے؟

قیامت کے دن سب سے بھاری عمل صلوۃ  اور تقویٰ  کو ایمان خلاص کے ساتھ  قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ۝
اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور جو بھی نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے آخرت میں اللہ کے پاس موجود پاؤ گے بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے (سب) کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
(البقرہ: 110)

نماز کو سب سے بھاری عمل اس لیے بتایا گیا ہے کیونکہ یہ اعمال کا ستون اور خالص عبادت کی علامت ہے۔ خالص نیت، دل کی خشوع، اور اللہ کی رضا کے لیے ادا کی گئی عبادت ترازو میں سب سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔ دیگر اعمال بھی اہم ہیں، لیکن بغیر اخلاص اور نیت کے وزن کم ہوگا۔ یہ بات اہلِ ایمان کے لیے عبرت ہے کہ نماز اور اخلاص کے ساتھ ہرعمل کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور قیامت میں ان کے اثرات نمایاں ہوں گے۔

تلاش کریں