قرآن و سنت کی روشنی میں قیامت کی سب سے پہلی بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، جو نظامِ کائنات کے الٹ جانے اور دروازۂ توبہ کے بند ہونے کی علامت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا
جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی، اس دن کسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لائی تھی یا ایمان لا کر نیک عمل نہیں کیے تھے۔
(سورۃ الانعام 6:158)
نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا
لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت ورآها الناس، آمنوا اجمعون، وذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها ثم قرا الآية
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو لے۔ جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
(صحيح البخاري:كتاب تفسير القرآن:حدیث: 4636)
یہ وہ لمحہ ہوگا جب کائنات کا توازن الٹ جائے گا، سورج اپنے معمول کے برعکس سمت سے طلوع ہوگا، اور تمام دروازے توبہ کے بند ہو جائیں گے۔ یہ منظر اللہ کی قدرتِ کاملہ اور انسان کی بے بسی کا اعلان ہوگا۔ جس دن فطرت کا نظام بدل جائے گا، اس دن ہر عقل و علم ماند پڑ جائے گا۔ اس لیے نجات اس وقت نہیں بلکہ آج ایمان اور عملِ صالح میں ہے، جب توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔