فرعون نے موسیٰؑ کو قتل کرنے کا فیصلہ اُس وقت کیا جب اُنہوں نے توحید کی دعوت کھلے عام پیش کی، اپنی نبوت کا اعلان کیا، اور فرعون کے باطل دعوۂ الوہیت کو چیلنج کیا۔ جادوگر بلوا لئے اور مقابلہ کردیا اور سب جادوگر ایمان لے آئے تب فرعون نے کہا کہ
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِىٓ أَقْتُلْ مُوسَىٰ وَلْيَدْعُ رَبَّهُ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْفَسَادَ
اور فرعون نے کہا: مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں، اور وہ اپنے رب کو پکار لے! مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارا دین بدل نہ دے یا زمین میں فساد نہ پھیلائے۔
(غافر: 26)
یہ فیصلہ دراصل اُس وقت سامنے آیا جب موسیٰؑ نے معجزات دکھا کر سچائی واضح کر دی، مگر فرعون اپنی سلطنت اور رب ہونے کے دعوے کے زوال سے خوف زدہ ہو گیا۔ اس نے بہانہ بنایا کہ موسیٰؑ دین بدل دیں گے تاکہ اپنے ظلم کو مذہبی رنگ دے کر قوم کی تائید حاصل کر سکے۔ اسی وقت مؤمن آلِ فرعون (فرعون کے درباری مومن) نے کھڑے ہو کر نصیحت کی کہ تم ایسے شخص کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے؟ مگر فرعون اپنی سرکشی پر قائم رہا یہاں سے اس کی ہلاکت کا آغاز ہوا۔
یہ واقعہ اہلِ ایمان کے لیے نصیحت ہے کہ جب باطل قوتیں توحید کے مقابل آتی ہیں تو انجام ہمیشہ حق کے حق میں ہوتا ہے، چاہے فرعون جیسا بادشاہ کیوں نہ ہو۔