ہودؑ نے اپنی قوم کو کس عذاب سے ڈرایا تھا؟

ہودؑ نے اپنی قوم عاد کو اللہ کے عذابِ عظیم سے ڈرایا تھا وہ آندھی جو ان کے گھمنڈ، کفر، اور بت پرستی کے بدلے میں ان پر مسلط کی گئی۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السّلام ) کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے فرمایا اے میری قوم ! تم اللہ کی عبادت کرو تمھارا اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے بےشک میں تمھارے بارے میں ڈرتا ہوں ایک بڑے دن کے عذاب سے۔ (الأعراف: 59)

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَــتِهِمْ ۙ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۭ بَلْ هُوَ مَا اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِهٖ ۭرِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۢ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰٓى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ ۝
پھر جب انہوں نے اپنی وادیوں کے سامنے آنے والا ایک پھیلا ہوا بادل دیکھا تو کہنے لگے : یہ تو ایک بادل ہے جو (ابھی) ہم پر برسنے والا ہے، نہیں ! بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی کی تھی۔ ایک سخت آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔ جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گی، پھر وہ لوگ اس طرح ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا، ہم جرائم پیشہ لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ (الأحقاف: 24)

آخرکار وہی عذاب آیا جس سے ہودؑ نے ڈرایا تھا

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًۭا صَرْصَرًۭا فِىٓ أَيَّامٍۢ نَّحِسَاتٍۢ
پھر ہم نے ان پر سخت شوریدہ ہوا بھیجی نحوست والے دنوں میں۔
(فصلت: 16)

یہ ہوا کئی دن تک ان پر مسلط رہی اور ان کے بلند قامت، طاقتور جسموں کو بھی زمین پر گرا دیا تاکہ قیامت تک کے لیے یہ مثال رہ جائے کہ جو قوم اللہ کے نبی کی بات جھٹلائے، وہ خواہ کتنی طاقتور کیوں نہ ہو، زوال سے نہیں بچ سکتی۔

تلاش کریں