قرآن میں نوحؑ کے بیٹے کا قول یوں بیان ہوا ہے:
قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ ۭ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ
نوحؑ کے بیٹے نے کہا، میں ایک پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوحؑ نے فرمایا، آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے جس پر وہ رحم فرمائے۔ پھر ایک موج ان کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا۔
(سورۃ ہود :43)
یعنی نوحؑ کے بیٹے نے اللہ کے حکم کی بجائے اپنی عقل اور تدبیر پر بھروسہ کیا، پہاڑ کو پناہ گاہ سمجھا، اور اسی غرور نے اسے ہلاکت میں ڈال دیا۔