جب موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اللہ نے تمہارے لیے مقدس سرزمین (ارضِ مقدسہ) مقرر کی ہے، وہاں داخل ہو جاؤ اور جہاد کرو، تو انہوں نے بزدلی اور نافرمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا
قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَـٰتِلَآ إِنَّا هَـٰهُنَا قَـٰعِدُونَ
انہوں نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز اس (شہر) میں نہیں جائیں گے جب تک وہ (دشمن) وہاں موجود ہیں، پس تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
(المائدۃ ٓ:24)
یہ جواب ان کی نہایت بڑی گستاخی اور ایمان کی کمزوری کا ثبوت تھا۔ اللہ نے اس نافرمانی پر انہیں چالیس سال تک صحراء میں بھٹکنے کی سزا دی، تاکہ وہ نافرمان نسل ختم ہو جائے اور بعد میں ان کی اولاد کو داخلہ نصیب ہو۔