بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ہم ایک ہی طرح کا کھانا (منّ و سلویٰ) ہر روز نہیں کھا سکتے، ہمیں زمین سے اگنے والی چیزیں چاہئیں یعنی سبزیاں، ککڑی، گیہوں، دال اور پیاز وغیرہ۔
قرآن میں فرمایا گیا
قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍۢ وَٰحِدٍۢ فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ ٱلْأَرْضُ مِنۢ بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا
انہوں نے کہا: اے موسیٰ! ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کر سکتے، اپنے رب سے دعا کر کہ وہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار اس کی سبزیاں، ککڑیاں، گیہوں، دال اور پیازنکال دے۔
(البقرۃ 61)
یہ مطالبہ ان کی ناشکری اور دنیا کی رغبت کی علامت تھی، کیونکہ اللہ نے انہیں آسمانی کھانے (منّ و سلویٰ) عطا فرمایا تھا، مگر انہوں نے کم درجے کی چیزوں کو ترجیح دی۔