قومِ مدین نے شعیبؑ کو جھٹلایا کیونکہ ان کی دعوت توحید، دیانت اور انصاف کے خلاف ان کے مفادات متاثر ہو رہے تھے۔ شعیبؑ نے انہیں ناپ تول میں کمی، مالی بددیانتی اور زمین میں فساد سے روکا تو انہوں نے الٹا ان پر جھوٹا الزام لگا دیا کہ تم ہمارے معاملات میں مداخلت کرتے ہو اور ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قَالُوا يَـٰشُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِىٓ أَمْوَٰلِنَا مَا نَشَٰٓؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ ٱلْحَلِيمُ ٱلرَّشِيدُ
انہوں نے کہا: اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، یا اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف نہ کریں؟ بے شک تم بڑے نیک اور سمجھ دار معلوم ہوتے ہو۔
(ہود: 87)
یہ طنزیہ جملہ ان کے انکارِ توحید اور دین سے تمسخر کی علامت تھا۔
انہوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا، مگر دراصل وہ اللہ کی ہدایت سے منہ موڑ رہے تھے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ وہی قوم، جس نے ناپ تول میں کمی اور شریعت کا انکار کیا، زلزلہ اور آسمانی چیخ سے ہلاک کر دی گئی۔
جیسا کہ فرمایا
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَـٰثِمِينَ
تو ان کو زلزلے نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
(الأعراف: 91)