شعیبؑ نے اپنی قوم کو تجارت میں کس چیز کا حکم دیا؟

شعیبؑ کو اللہ تعالیٰ نے قومِ مدین کی طرف بھیجا جو تجارت میں ناپ تول میں کمی اور مالی خیانت کرتی تھی۔ شعیبؑ نے انہیں عدل، دیانت اور صحیح پیمانوں کے استعمال کا حکم دیا اور فرمایا کہ کسی کا حق نہ مارو، کیونکہ یہ ایمان کے منافی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے الفاظ قرآن میں یوں بیان فرمائے
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ ۝ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ۝وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ۝
پیمانہ پورا کرو اور نقصان کرنے والوں میں سے نہ بنو، اور سیدھے ترازو سے تولو، اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔
(الشعراء: 181–183)

شعیبؑ نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ ایمان اور امانت ساتھ ساتھ ہیں؛ جو کاروبار میں دھوکہ دیتا ہے وہ دراصل توحید کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَن غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا
جو دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔
(صحیح مسلم، حدیث: 102)

یوں شعیبؑ کا پیغام آج بھی اہلِ ایمان کے لیے رہنمائی ہے کہ ایمان دارانہ تجارت دراصل اللہ کے ساتھ وفاداری کی علامت ہے۔

تلاش کریں