قومِ ثمود کے مجرموں پر اللہ تعالیٰ نے سخت اور خوفناک چنگھاڑ (صیحة) اور زلزلہ کا عذاب نازل کیا جس نے انہیں ہلاک کر دیا۔
قرآن میں ہے کہ
فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ
پس ان کو ایک سخت زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔
(الأعراف: 78)
اور دوسری جگہ فرمایا
اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ
ہم نے ان پر ایک زور دار چیخ بھیجی تو وہ باڑ کے سوکھے تنکوں کی طرح ہو گئے۔
(القمر: 31)
یعنی اللہ کی بھیجی ہوئی ایک ہی آواز اور جھٹکے نے ان کے بڑے بڑے محلات اور مضبوط جسموں کو خاک کا ڈھیر بنا دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی نصیحت ہے کہ اللہ کی نشانیاں جھٹلانے اور رسول کی نافرمانی کرنے والی قومیں دنیا میں بھی رسوا کن عذاب کا شکار ہوئیں۔ اہلِ ایمان کے لیے سبق یہ ہے کہ اللہ کے پیغام کے سامنے تکبر نہ کریں، ورنہ انجام بھی انہی جیسا ہو گا۔