قومِ سبا کو اللہ تعالیٰ نے زبردست نعمت دی تھی کہ ان کے علاقے میں سرسبز باغات، خوشحال زمینیں اور بہترین زراعت تھی۔ انہیں امن، سکون اور وافر روزی میسر تھی، مگر انہوں نے ناشکری کی اور اللہ کی اطاعت چھوڑ دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
لَقَدۡ كَانَ لِسَبَإٖ فِي مَسۡكَنِهِمۡ ءَايَةٞۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٖ وَشِمَالٖۖ كُلُواْ مِن رِّزۡقِ رَبِّكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥۚ بَلۡدَةٞ طَيِّبَةٞ وَرَبٌّ غَفُورٞ فَأَعۡرَضُواْ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ
قومِ سبا کے لیے ان کے مسکن میں ایک نشانی تھی دائیں اور بائیں طرف دو باغ۔ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، ایک پاکیزہ بستی اور بخشنے والا رب۔ مگر انہوں نے منہ موڑ لیا تو ہم نے ان پر بند توڑنے والا سیلاب بھیج دیا۔ (سبا: 15 تا 16)
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں ہمیشہ شکر کے ساتھ قائم رہتی ہیں۔ ناشکری، غرور اور بدعملی سے نعمتیں چھن جاتی ہیں اور عذاب میں بدل جاتی ہیں۔