کیا تمام صحابہؓ عادل اور راشد تھے؟

تمام صحابہ کرامؓ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنی رضا اور وعدۂ جنت سے نوازا، اور وہ دین کی گواہی میں عادل و راشد شمار ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ
وہ جنھوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ہو سکتے وہ ان لوگوں سے درجہ میں بہت بڑھے ہوئے ہیں جنھوں نے (فتح مکہ کے) بعدخرچ کیا اور قتال کیا اور اللہ نے سب سے بھلائی کاوعدہ فرما رکھا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ (الحدید:10)

نیز فرمایا کہ
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
بے شک اللہ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے، اس نے ان کے دلوں کا حال جان لیا، اور ان پر سکون نازل کیا، اور انہیں قریب کی فتح کا بدلہ دیا۔ (الفتح: 18)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ سب صحابہؓ کا ایمان و عدل اللہ کے ہاں ثابت ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
لوگوں میں سب سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کے بعد والا۔
(صحیح بخاری، حدیث 2652)
یعنی صحابہؓ سب سے بہتر اور دین میں عادل ہیں، اگرچہ بشری کمزوریاں ان میں بھی ہو سکتی تھیں۔

فرقہ واریت نے بعض صحابہؓ پر طعن کیا اور بعض کو معصوم بنا دیا، حالانکہ صحابہؓ نہ تو معصوم تھے بلکہ خطا کا امکان تھا۔ جبکہ تمام صحابہؓ ایمان، عدل اور دین کی گواہی میں معتبر اور برگزیدہ ہیں، تمام صحابہؓ عادل اور دین میں قابل اعتماد ہیں۔

تلاش کریں