کیا جمہوریت خلافت کا متبادل نظام ہے؟

ہرگز جمہوریت خلافت کا متبادل نہیں ہے، کیونکہ خلافت کا نظام براہِ راست اللہ کی شریعت کی اطاعت اور شوریٰ کے اصول پر قائم ہے، جبکہ جمہوریت میں فیصلہ اکثریت کی خواہشات پر ہوتا ہے خواہ وہ قرآن و سنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فرقہ واریت نے بعض اوقات جمہوریت کو خلافت کے مترادف قرار دیا۔ جبکہ جمہوریت ہیود و نصاری کا کافرانہ نظام حکومت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ
اور لوگوں کے درمیان فیصلہ اسی کے مطابق کرو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔(المائدة: 49)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خلافت کا اصل معیار اللہ کا حکم ہے، نہ کہ جمہوریت جو عوامی خواہش یا اکثریت کی رائے پر مبنی ہوتی ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون
بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی وفات پاتا تو دوسرا اس کا جانشین ہوتا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، البتہ خلفاء ہوں گے اور زیادہ ہوں گے۔(صحیح بخاری، حدیث 3455)

یعنی امت کا نظام انبیاء کے بعد خلفاء کے ذریعے چلے گا، جو شریعت کو نافذ کریں گے۔ فرقہ واریت نے بعض جگہ خلافت کو محض سیاسی ڈھانچے تک محدود کر دیا اور بعض نے جمہوریت کو دین کے برابر لا کھڑا کیا۔ لیکن صحابہؓ نے خلافت کو شوریٰ، عدل اور شریعت پر قائم کیا، جو جمہوریت کی مطلق اکثریت سے متضاد ہے۔

تلاش کریں