ابوبکرؓ کی خلافت قرآن سے براہِ راست کسی نصِ قطعی میں بیان نہیں کی گئی، بلکہ قرآن نے اصول و ہدایت دی ہے کہ امت کے معاملات باہمی مشورے اور اطاعتِ حق پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
اور ان کے تمام کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں، اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اسی میں سے خرچ کرتے ہیں۔(الشورى: 38)
یہ اصول خلافت کے تعین کی بنیاد بنا کہ امت نے باہمی مشورے اور اجماع کے ذریعے ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ نام لے کر کسی کو مقرر نہیں فرمایا، لیکن اپنی زندگی میں ابوبکرؓ کو نماز میں امامت کا حکم دے کر (بخاری، حدیث 683) اس طرف واضح اشارہ کر دیا کہ وہ امت کی قیادت کے اہل ہیں۔
موجودہ فرقوں کی گمراہی یہ ہے کہ بعض نصِ قطعی کے بغیر خلافت کے لئے خاص اشخاص یا نسلوں کو معیار بنا لیتے ہیں، جبکہ صحابہؓ نے قرآن کے اصول پر اجماع اور شوریٰ کو بنیاد بنایا۔ اور یہی توحید کا تقاضا ہے کہ قیادت صرف اللہ کی شریعت کے تابع ہو، نہ کہ شخصیات یا نسب کی بنیاد پر۔
اس لئے ابوبکرؓ کی خلافت قرآن کے اصول شوریٰ اور نبی ﷺ کا ابوبکرؓ کو امامت کے اپنے مصلے پر کھڑا کرنے سے ثابت ہے، اور اسی پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہوا۔ نجات اسی میں ہے کہ خلافت کو قرآن و سنت کی ہدایت اور صحابہؓ کے منہج پر سمجھا جائے، نہ کہ فرقہ وارانہ دعووں پر۔