اللہ نے انسان کو اجتماعی زندگی کے لیے شریعت دی ہے اور امت کو حکم دیا ہے کہ وہ عدل و قسط کے ساتھ اللہ کے احکام نافذ کرے۔ خلافت کا قیام اسی مقصد کے لیے ہے، کہ اللہ کا دین اجتماعی سطح پر قائم ہو اور شریعت کا نفاذ ہو۔ اس لیے خلافت کا قیام محض ایک آپشن نہیں بلکہ شریعت کا فریضہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا
اللہ نے وعدہ کیا ہے تم میں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا کرے گا جیسے پچھلوں کو عطا کی، اور ان کے لیے ان کے دین کو ضرور مضبوطی سے قائم کرے گا جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن میں بدل دے گا، وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔(النور: 55)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
كانت بنو إسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي وسيكون خلفاء فيكثرون، قالوا: فما تامرنا، قال: فوا ببيعة الاول فالاول اعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم
بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔
(صحيح البخاري:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3455)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبوت کے بعد قیامت تک امت کی قیادت اور اجتماعیت کا نظام خلافت ہی ہے۔ موجودہ دور میں امت کا ٹکڑوں میں بٹ جانا اور خلافت سے دور ہونا دراصل قرآن کے وعدے سے محرومی ہے۔ خلافت کا قیام ہر دور میں فرض ہے تاکہ دین اللہ کی زمین پر غالب ہو۔ اگر امت اس فرض سے غافل ہو جائے تو یہی تفرقہ، ذلت اور باہمی کمزوری کی وجہ بنتی ہے۔ لہذا خلافت کا قیام قیامت تک ہر دور میں امت کے لیے فریضہ ہے، کیونکہ اس کے بغیر دین کا اجتماعی نفاذ ممکن نہیں۔