کیا فرقوں میں بٹے بغیر صرف قرآن و سنت کو تھامنا ممکن ہے؟

اللہ نے اپنی کتاب میں واضح کیا کہ دین اسلام کی بنیاد صرف قرآن اور سنتِ رسول ﷺ ہے، اور اسی پر اجتماع ممکن ہے۔ فرقے اس وقت وجود میں آتے ہیں جب لوگ اللہ کے کلام اور نبی ﷺ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی رائے، شخصیت یا جماعت کو اصل بنا لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ۚ  

اللہ کی رسی  قرآن  کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے۔
 آل عمران: 103

نبی کریم ﷺ نے امت کے تفرقے کی خبر دی اور ساتھ ہی نجات پانے والی جماعت کی پہچان بھی بتائی کہ

لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي

میری امت پر بھی وہی کچھ ضرور آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا تھا، بالکل ایسے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں کوئی شخص علانیہ اپنی ماں سے بدکاری کرتا تھا تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کام کریں گے۔ اور بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، جبکہ میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے ایک کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ ایک گروہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)۔

 جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641 واضح ہے کہ فرقوں میں نہ تقسیم ہونا صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم صحابہؓ کی راہ کو اپنائیں اور قرآن و سنت کو اصل معیار مانیں، نہ کہ کسی مسلک یا شخصیت کو۔ موجودہ دور میں فرقہ واریت اسی لیے بڑھ رہی ہے کہ لوگ ناموں اور جماعتوں پر جمع ہوتے ہیں، لیکن حق صرف اس جماعت کو ہے جو بغیر تعصب کے وحی الٰہی اور سنت نبوی ﷺ پر عمل کرے۔ نجات فرقوں کے ساتھ جڑنے میں نہیں بلکہ فرقوں سے علیحدہ ہو کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کو تھامنے میں ہے، جیسا کہ صحابہ کرامؓ نے تھاما۔ یہی توحید اور یہی صراطِ مستقیم ہے۔

تلاش کریں