کیا شخصیات کو معیارِ حق بنانا شرک فی الطاعة ہے؟

اللہ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا کہ معیارِ حق صرف اس کا نازل کردہ دین ہے، نہ کہ کوئی شخصیت یا جماعت کا اپنا اپنا۔ اگر کسی انسان کو اس درجہ دے دیا جائے کہ اس کی ہر بات کو حق مانا جائے چاہے وہ قرآن و سنت کے خلاف ہو، تو یہ دراصل اللہ کے حکم کے مقابلے میں بندے کی اطاعت ہے، جو شرک فی الطاعة ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۖ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
انہوں نے اپنے علماء اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں حکم یہی دیا گیا تھا کہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان سے جنہیں وہ شریک بناتے ہیں۔(التوبہ: 31)

نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی وضاحت میں عدی بن حاتمؓ کو بتایا کہ
أَلَيْسَ يُحِلُّونَ لَكُم مَّا حَرَّمَ اللَّهُ فَتُحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْكُم مَّا أَحَلَّ اللَّهُ فَتُحَرِّمُونَهُ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ
کیا وہ تمہارے لیے اللہ کے حرام کو حلال نہیں کرتے تھے اور تم مان لیتے تھے، اور حلال کو حرام کرتے تھے اور تم مان لیتے تھے؟ عدیؓ نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی ان کی عبادت تھی۔
(سنن الترمذی، حدیث 3095)

یہی مرض آج امت میں پایا جاتا ہے کہ لوگ شخصیات کو اتنا بلند درجہ دے دیتے ہیں کہ ان کی رائے کو قرآن و سنت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، خواہ وہ بات دلیل سے ٹکرا رہی ہو۔ یہی فرقہ واریت کی جڑ اور شرک فی الطاعة ہے۔ صحابہ کرامؓ کا منہج یہ تھا کہ وہ نبی ﷺ کے بعد کسی کو مطلق معیار نہیں مانتے تھے، بلکہ ہر قول کو قرآن و سنت پر پرکھتے تھے۔ مسلمان کے لیے معیار صرف اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے، نہ کہ کسی امام، پیر یا شخصیت کی اندھی تقلید۔ جو شخصیات کو معیارِ حق بناتا ہے وہ توحید سے ہٹ کر شرک فی الطاعة میں داخل ہوتا ہے۔

تلاش کریں