عقیدہ اسلام کی بنیاد ہے اور اس کی حفاظت انبیاء علیہم السلام کا اصل مشن رہا ہے، لیکن جب اس کو دنیاوی مفاد، سیاسی غلبے یا گروہی طاقت کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ اصل ہدایت سے انحراف اور امت کے بٹوارے کا سبب بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
حکم صرف اللہ کا ہے، اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عقیدہ بندگی اور اطاعت کے لیے ہے، نہ کہ دنیاوی حکمرانی اور سیاست کے کھیل کے لیے۔(یوسف: 40)
فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ
بےشک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ ہو گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے بےشک اُن کا معاملہ اللہ ہی کے حوالہ ہے پھر وہ اُنھیں بتائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ (الانعام:159)
یہ تنبیہ ہے کہ عقیدہ کو مروجہ سیاست یا فرقہ پرستی کا ذریعہ بنانا اصل راہ سے گمراہی ہے۔
پہلے بھی ضد کی وجہ سے تفرقہ بازی ہوئی فرمایا کہ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ
اور انھوں نے تفرقہ ڈالا اپنے پاس علم (وحی) کے آجانے کے بعد آپس کی ضد کی وجہ سے اور اگر آپ کے ربّ کی بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی ایک خاص وقت تک تو یقینا ً اُن کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بےشک جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد ضرور اِس کے حوالہ سے بے چین کرنے والے شک میں ہیں۔ (الشوری:14)
آج کے دور میں فرقہ وارانہ سیاست نے دین کے خالص تصورکو دھندلا دیا ہے۔ کہیں عقیدہ کے نام پر ایک مسلک کو دوسروں پر برتر دکھایا جاتا ہے، کہیں اسے اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ صحابہ کرامؓ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ عقیدہ کو ایمان، توحید اور اطاعت کے ساتھ جوڑتے تھے، سیاست یا دنیاوی عہدوں کے ساتھ نہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین کا اصل چہرہ چھپ گیا اور لوگ اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت کے بجائے سیاسی گروہوں کے نعروں میں الجھ گئے۔ لہٰذا عقیدہ کو سیاست سے پاک رکھنا ہی اصل توحید ہے اور اسی میں امت کی نجات ہے۔