کیا عید میلاد النبی ﷺ شریعت میں ہے؟

دین اسلام میں عیدیں صرف دو ہی ہیں۔ یہ بریلویوں میں تیسری عید قرآن و سنت کی روشنی میں عید میلاد النبی ﷺ شریعت میں ثابت نہیں ہے۔ اور اہل تشیع میں تیسری عید عید غدیر بھی ثابت نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِينٗا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کر لیا۔
(المائدۃ، 3)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین مکمل ہو چکا ہے، اس میں کسی نئی عبادت یا تہوار کی گنجائش باقی نہیں۔ نبی ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں نہ میلاد منایا، نہ صحابہؓ اور تابعینؒ نے۔ بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسا نیا کام داخل کیا جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری 2697، صحیح مسلم 1718)

لہٰذا عید میلاد النبی ﷺ بدعت ہے، اور یہ نبی ﷺ کی اصل سنت کو چھوڑ کر نئی راہوں پر چلنے کے مترادف ہے۔ حقیقی محبتِ رسول ﷺ یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کریں، نہ کہ خودساختہ رسومات اختیار کریں۔

تلاش کریں