کیا فاتحہ کے لیے کھانے کا اہتمام جائز ہے؟

فاتحہ خوانی بذات خود ایک بدعت ہے اور اسکے لیے خاص طور پر کھانے کا اہتمام کرنا مزید گمراہی ہے ایسا کرنا شریعت میں ثابت نہیں ہے۔ یہ علماء و مشائخ کی شریعت سازی ہے۔ فرمایا کہ

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ چیزیں مقرر کر دیں جو اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(الشورى: 21)

نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے نہ فاتحہ کی کوئی محفل کی، نہ اس کے لیے ہر جمعرات و سالانہ برسی کے طور پر کھانے کا انتظام کیا۔ اس طرح اگر کسی مرنے والے کے گھر والے میّت کے نام پر کھانے کی محفل کریں تو یہ بدعت اور غیر شرعی عمل ہے۔ البتہ ایک بار اگر لوگ میّت کے گھر والوں کے لیے اپنے طور پر کھانا لے جائیں تاکہ ان کی دل جوئی ہو تو یہ سنت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے جعفرؓ کی شہادت پر فرمایا
آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسی مصیبت آئی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
(سنن ابی داود: كتاب الجنائز:حدیث: 3132)

لہذا مروجہ طریقے کے طور پر فاتحہ کے نام پر کھانے کا اہتمام خالص بدعت ہے،جسکا انجام گمراہی اور جہنم کی آگ ہے۔

تلاش کریں