ایک اندھیرے پر دوسرا اندھیرا، ختمِ قرآن کرنا خود ایک بدعت ہے اور اس موقع پر دعائیں مخصوص کرنا بھی۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے کسی صحیح روایت میں یہ ثابت نہیں ہیں۔ نہ ہی قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنے پر کوئی خاص دعا مقرر کی گئی ہے۔ اس لیے ختمِ قرآن کو ایک تقریب بنانا اور اسے عبادت کے طور پر لازم سمجھنا یا اس پر مخصوص دعائیں پڑھنا بدعت ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔(المائدہ 3)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین مکمل ہو چکا ہے، اب عبادت میں اپنی طرف سے اضافہ کرنا دین میں نئی چیز داخل کرنا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2697، صحیح مسلم، حدیث: 1718)
لہٰذا قرآن پڑھنا، اس پر عمل کرنا اور عام دعائیں کرنا درست ہے، لیکن ختم قرآنکی محفل اور اس کی خاص دعائیں مقرر کرنا شریعت سے ثابت نہیں۔