کیا فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا سنت ہے؟

یہ عمل نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں ہے، اس لیے اسے سنت کہنا درست نہیں بلکہ بدعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کبھی نہیں کی، نہ اسکی تعلیم دی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔(النساء 59)
یہ اصول واضح کرتا ہے کہ عبادات میں اصل حجت قرآن اور سنت ہے، اپنی طرف سے اضافہ کرنا درست نہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا
خَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ
سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث: 867)

عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يرفع يديه في شيء من دعائه إلا في الاستسقاء، وإنه يرفع حتى يرى بياض إبطيه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔
(صحيح البخاري: كتاب الاستسقاء: حدیث: 1031)

لہٰذا فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔

تلاش کریں