جی ہاں، کسی مستند روایت سے غیر ثابت وظیفے کو شریعت میں لازمی اور دین کا حصہ سمجھنا بدعت ہے، کیونکہ دین صرف وہی ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہو۔ ذکر و اذکار کی اصل مشروعیت قرآن و حدیث سے ہے، مگر ان کے ساتھ ایسی پابندیاں لگانا جو رسول اللہ ﷺ نے نہ لگائیں، وہ بدعت شمار ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کر لیا۔
(المائدہ 3)
یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کسی مخصوص عمل کو دین میں لازم قرار دینا گویا دین میں اضافہ ہے، اور یہ بدعت ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسا نیا کام داخل کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2697، صحیح مسلم، حدیث: 1718)
یعنی اگر کوئی شخص کسی وظیفے کو لازمی اور دین کا مستقل حصہ قرار دے، تو یہ بدعت ہے۔ البتہ عام اذکار (سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، استغفار، درود ابراہیمی وغیرہ) کثرت سے کرنا نبی ﷺ سے ثابت ہے اور باعثِ اجر ہے، مگر ان کو مخصوص تعداد یا وقت کے ساتھ لازمی سمجھنا اور اسے اصل دین کا جزو بنانا بدعت ہے۔ پس مسلم کو چاہیے کہ ذکر و اذکار سنت کے مطابق کرے، اور ان پر خودساختہ پابندیاں نہ لگائے۔