حاجت روائی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ممکن ہے، کسی ولی، پیر یا نبی سے نہیں۔
قرآن میں فرمایا گیا کہ
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ
اور اگر اللہ تجھے تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی ہٹانے والا نہیں۔
(یونس: 107)
یہ آیت بالکل واضح ہے کہ نفع و نقصان، مصیبت دور کرنا اور حاجت پوری کرنا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی اور کو اس اختیار میں شریک ماننا شرک ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہؓ کو بھی فرمایا
اے فاطمہ بنت محمد! اللہ سے مانگو، میں تمہارے لیے اللہ کے سامنے کچھ نہیں کر سکتا۔
(صحیح بخاری: 2753، صحیح مسلم: 204)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سب سے زیادہ محبوب اور قریبی شخصیت کے لیے بھی حاجت روائی کا اختیار رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے نہیں مانا، بلکہ اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دی۔
نیز اللہ کے علاوہ کسی کوغوثِ اعظم کہنا بھی شرک ہے۔ پہلے بھی اس سے امتیں شرک اور بدعت میں مبتلا ہوئیں، جیسا کہ سابقہ قومیں اپنے بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگیں تو گمراہ ہو گئیں۔
حاجت روائی صرف اللہ سے ممکن ہے۔ کسی اور سے مانگنا توحید کے خلاف ہے۔ صحیح طرز یہ ہے کہ ان کی نیک زندگی سے سبق لیا جائے اور اپنی دعائیں اور حاجات صرف اللہ کے سامنے پیش کی جائیں۔