کیا شفاعت نجات کی ضمانت ہے؟

نہیں، شفاعت بذاتِ خود نجات کی ضمانت نہیں، بلکہ شفاعت صرف اسی کے لیے ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت دے اور راضی ہو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
کون ہے جو اس کے پاس سفارش کرے مگر اس کی اجازت سے؟(البقرۃ: 255)

شفاعت ان لوگوں کے لیے ہوگی جنہوں نے توحیدِ خالص کو اختیار کیا ہو اور اللہ کی رضا حاصل کی ہو۔ کفار اور مشرکین کے لیے شفاعت فائدہ نہ دے گی۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ او نفسه
قیامت کے دن میری شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہوگا جس نے اخلاص کے ساتھ دل سے لا إله إلا الله کہا۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر 99)

لہٰذا شفاعت کسی کی نجات کی مطلق ضمانت نہیں، بلکہ شرط یہ ہے کہ بندہ ایمان و توحید کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو۔ اور اسکی شفاعت ہوگی جسکے لیے اللہ اجازت دے۔

تلاش کریں