یہ عقیدہ رکھنا کہ انبیاء کرام علیہھم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں یہ شرک کا چور دروازہ ہے، کیونکہ دنیاوی زندگی کا ماننا ان کو اللہ کی خاص صفات میں شریک ٹھہرانا ہے۔
ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
پھر اس کے بعد تم سب مرنے والے ہو، پھر قیامت کے دن زندہ اٹھائے جاؤ گے۔(المؤمنون: 15-16)
یہ واضح دلیل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی صرف قیامت کو ہے، قبر میں دنیاوی زندگی ماننا قرآن کی مخالفت ہے۔
یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاء کو حد سے بڑھا کر زندہ اور نافع و ضار مانا، اللہ نے فرمایا
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔(التوبہ: 31)
جب زندہ عالم و زاہد کو رب بنانا شرک ہے تو فوت شدہ نبی کو قبر میں زندہ ماننا بدرجہ اولیٰ شرک ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا
اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ
اے اللہ! میری قبر کو ایسا بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے۔ (مسند احمد، حدیث 7352)
اگر قبر میں دنیاوی زندگی ماننا درست ہوتا تو نبی ﷺ اس کو شرک بتا کراور قبر کو بت بنانے سے نہ روکتے۔
نبی ﷺ کو قبر میں زندہ ماننا شرک ہے، کیونکہ یہ عقیدہ اللہ کے قانونِ موت وحیات کے خلاف ہے، اور نبی کو اللہ کی صفاتِ خاصہ (الحی و القیوم) میں شریک کرنا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کو وفات ہوئی اور اب برزخی حیات اللہ کی اعلی جنتوں میں ہیں، زندگی صرف قیامت کے دن دوبارہ ملے گی۔