جی ہاں، عقائد میں نرمی اور سمجھوتہ کرنا فتنہ اور گمراہی کا دروازہ ہے، کیونکہ دین کی بنیاد ہی صحیح عقیدہ ہے۔ جب اس میں کمزوری یا مصالحت آتی ہے تو دین کی اصل جڑ کٹ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
وہ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو وہ بھی نرمی کریں۔
(القلم: 9)
یعنی کفار چاہتے تھے کہ نبی ﷺ عقیدے میں لچک دکھائیں تاکہ وہ بھی وقتی طور پر ساتھ دے سکیں، لیکن اللہ نے یہ طرزِ عمل رد کر دیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمُ اللهِ ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا
اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے گمراہ ہوئے کہ جب ان میں کوئی معزز اور بااثر شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو محمد ﷺ اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔
صحيح البخاري – كتاب الحدود وما يحذر من الحدود – باب كراهية الشفاعة في الحد إذا رفع إلى السلطان: 6788
یہ اصول عقائد پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ دین میں نرمی یا امتیازی رویہ فتنہ کا سبب ہے۔ امت کا زوال بھی زیادہ تر اسی مصالحتِ باطل کی وجہ سے ہوا۔